رسائی کے لنکس

کاروباری شراکت داری کے پروگراموں سے مسلم دنیا کو فائدہ پہنچے گا: ہلری کلنٹن

  • سوزان پریسٹو

میڈلین آلبرائیٹ نے کہا ہے کہ سرکاری نجی شراکت داری کا یہ نیا پروگرام اقتصادی مواقعوں اور کاروباری تنظیم کاری، سائنس اور ٹیکنالوجی میں اختراعات، تعلیم اور افراد کے درمیان براہ راست تبادلوں پر توجہ مرکوز کرکےصدراوباما کے تصور کو آگے بڑھاتا ہے

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اور سابق وزیر خارجہ میڈلین آلبرائیٹ نے دنیا بھر کی مسلم کمینونیٹز کے فائدے کے لیے منگل کے روز نجی شعبے اور امریکی محکمہ خارجہ کے درمیان ایک نئی شراکت داری کا اعلان کیا۔

عوامی اور سرکاری کاروباری شراکت کے اِس نئے پروگرام میں امریکہ کی کوکاکولا کمپنی ایک عالمی شراکت دار کے طورپر شامل ہے۔

کوکا کولا کمپنی میں حکومت کے ساتھ تعلقات کے امور سے متعلق نائب صدر بارکلے ریزلر نئے آغاز کے شراکت دارنامی پروگرام کے اعلان کے موقع پر امریکی محکمہ خارجہ میں موجود تھے۔ اِس پروگرام کے تحت امریکی کمپنیاں مسلم دنیا سے رابطے کریں گی۔

ریسلر کہتے ہیں کہ چھوٹے کاروباروں کی ترقی اور اُن علاقوں میں جہاں وہ چلائے جاتے ہیں کمیونیٹز کے استحکام میں مدد دینے میں عالمی تنظیموں کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

وہ کہتے ہیں کہ کوکاکولا کمپنی کے صرف عرب دنیا میں 58 پلانٹس ہیں جن میں 40 ہزار لوگوں کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوکاکولا دنیا بھر میں ملازمتیں فراہم کرنے والی تیسری سب سے بڑی اور فلسطینی علاقوں میں پانچویں سب سے بڑی سرمایہ کارکمپنی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم جہاں کہیں بھی کام کرتے ہیں وہ ایک مقامی کاروبار ہوتا ہے، اور اُن تمام ملکوں میں ہم مقامی رسم و رواج اور روایات کا خیال رکھتے ہیں۔ ہم جس کمیونٹی میں کام کرتے ہیں، وہاں سے کمایا ہوا سرمایہ اُسی علاقے میں رہتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ اِس پروگرام کے تحت امریکی سرمایہ کاروں کی اس بارے میں حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ مسلمان اکثریتی کمیونٹیز میں کاروباری مواقع پیدا کریں ، یا سمندر پار ملکوں میں تعمیر ہونے والے سائنسی مراکز کے لیے آلات یا ٹکنالوجی کی فراہمی میں مدد کریں ، یا بیرونی ملکوں میں کاروبار کی تعلیم بہتر بنانے کے لیے کام کریں۔

اُنوتں نے کہا کہ اِس قسم کی سفارت کاری آج کی دنیا کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ ہدف صرف نجی اور سرکاری شعبے کی اِس قسم کی شراکت داریوں ہی سے حاصل کیا جاسکتا ہے جِس کے لیے امریکہ خصوصی طورپر جانا جاتا ہے اور جِس کی آج ہم ابتدا کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ مختلف شعبوں اور صنعتوں میں کام کرنے والے لوگ اور گروپس نئے آغاز کے وعدے کی تکمیل کے لیے بھرپور طریقے سے اور تخلیقی انداز میں کام کریں گے اور اس کے نتیجے میں مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

سابق وزیر خارجہ میڈلین آلبرائیٹ نے صدر اوباما کے قاہرہ میں گذشتہ جون کے خطاب کا ذکر کیا جس میں صدر نے امریکہ اور مسلمان دنیا کے درمیان ایک نئے آغاز کے لیے کہا تھا۔آلبرائیٹ نے کہا کہ سرکاری نجی شراکت داری کا یہ نیا پروگرام اقتصادی مواقعوں اور کاروباری تنظیم کاری ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں اختراعات ، تعلیم اور افراد کے درمیان براہ راست تبادلوں پر توجہ مرکوز کرکےصدر کے تصور کو آگے بڑھاتا ہے۔

آلبرائیٹ واشنگٹن میں قائم Aspen انسٹی ٹیوٹ کے صدر والٹر اِزہاک سن اور کوکاکولا کمپنی کے چیئر مین اور سی ای او مُہتر کینٹ کے ساتھ نئی شراکت داری کے اس پروگرام کی شریک چیئر پرسن ہیں۔

XS
SM
MD
LG