رسائی کے لنکس

ہلری کلنٹن کو بطور وزیر خارجہ نجی ای میلز کو سرکاری خط و کتابت کے لیے بھی استعمال کرنے پر تنقید کا سامنا رہا ہے اور ناقدین کا کہنا تھا کہ اس سے قومی نوعیت کی حساس معلومات کے افشا ہونے کا خطرہ تھا۔

امریکہ میں ڈیموکریٹ کی طرف سے صدارتی امیدوار کی نامزدگی کی دوڑ میں شامل ہلری کلنٹن نے اعتراف کیا ہے کہ بحیثیت امریکی وزیر خارجہ نجی ای میل سرور استعمال کرنا "ایک غلطی" تھی۔

منگل کو دیر گئے ان کے فیس بک پیج پر جاری کیے گئے ایک بیان میں ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ "ہاں مجھے دو ای میل ایڈریسز استعمال کرنے چاہیئے تھے۔ ایک نجی معاملات کے لیے اور ایک محکمہ خارجہ کے کام کے لیے۔"

انھوں نے مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہوئے معذرت کی، لیکن ان کا کہنا تھا کہ نجی ای میل کے استعمال کی "محکمہ خارجہ کے اصولوں کے تحت اجازت تھی۔"

"میں جانتی ہوں یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے، مجھے پہلے سوالوں کا بہتر طریقے سے جواب دینا چاہیئے تھا۔"

ان کے اس بیان سے چند گھنٹے قبل 'اے بی سی' ٹیلی ویژن نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہلری کلنٹن نے براہ راست معذرت کی تھی۔

اس سے قبل سابق وزیر خارجہ اس معاملے پر کسی بھی طرح معذرت کرنے سے گریزاں رہی ہیں۔

پیر کو خبر رساں ایجنسی "اے پی" سے ایک انٹرویو میں انھوں نے معذرت نہ کرنے کے اپنے موقف کو برقرار رکھتے ہوئے کہا تھا کہ "انھوں نے جو کچھ کیا اس کی اجازت تھی۔"

حالیہ دنوں میں رائے عامہ کے جائزے ہلری کلنٹن کی مقبولیت میں تنزلی ظاہر کر رہے تھے۔

ہلری کلنٹن کو بطور وزیر خارجہ نجی ای میلز کو سرکاری خط و کتابت کے لیے بھی استعمال کرنے پر تنقید کا سامنا رہا ہے اور ناقدین کا کہنا تھا کہ اس سے قومی نوعیت کی حساس معلومات کے افشا ہونے کا خطرہ تھا۔

گزشتہ ماہ ہی انھوں نے محکمہ خارجہ کو اپنی تقریباً 55 ہزار صفحات پر مبنی ای میلز جاری کرنے کا کہا تھا جو انھوں نے اپنے نجی ای میل سرور سے 2009ء سے 2013ء کے دوران بھیجیں یا وصول کی تھیں۔

XS
SM
MD
LG