رسائی کے لنکس

ہلری کلنٹن کی برونائی آمد

  • واشنگٹن

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اور برونایئ کے سلطان (دائیں)

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اور برونایئ کے سلطان (دائیں)

امریکی وزیر خارجہ اِن دِنوں ایشیا بحر الکاہل کے چھ ملکی دورے پر ہیں جِس کےدوران اُنھوں نے آسیان کے علاقائی تنازعات کے سلسلے میں ایک متحدہ محاذ تشکیل دینے پر زور دیا

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اِس وقت برونائی پہنچ چکی ہیں، اور اِس طرح وہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے تمام 10ملکوں کادورہ کرنے والی پہلی اعلیٰ ترین امریکی سفارت کاربن گئی ہیں۔

ہلری کلنٹن اِن دِنوں ایشیا بحر الکاہل کے چھ ملکی دورے پر ہیں جِس کےدوران اُنھوں نے آسیان کے علاقائی بلاک پر ذہن مرکوز رکھتے ہوئے چین کے ساتھ مل کر علاقائی تنازعات کے سلسلے میں ایک متحدہ محاذتشکیل دینے پر زور دیا۔

برونائی اسٹریٹجک جنوبی بحیرہ چین پر دعویدار ہے، جوکہ توانائی سے مالا مال خطہ ہے،جو اس سال چین اور اُس کے ہمسایوں کے مابین بڑھتے ہوئے آبی تنازعات کا محور بن چکا ہے۔ برونائی اگلے سال آسیان کی سربراہی کرے گا۔

اسی ہفتے بیجنگ میں ہلری کلنٹن کے ساتھ مذاکرات کے دوران چینی راہنماؤں نےجنوب بحیرہ چین کے تنازعات کے حل کے لیے آسیان کی طرف سے ایک طریقہٴ کار وضع کرنےسے متعلق امریکی دباؤ کو مسترد کیا۔

بیجنگ اس بات کو ترجیح دیتا ہے کہ متحارب دعویداروں کے ساتھ انفرادی طور پرروابط رکھے جائیں جن میں تائیوان، فلپینز، ویتنام اور ملائیشیا بھی شامل ہیں۔
جمعے کو ایشیا پیسیفک کےلیڈروں کے ساتھ ملاقات کے لیے ہلری کلنٹن روس کا دورہ کرنے والی ہیں۔

اس سے قبل جمعرات کو ہی ہلری کلنٹن کچھ دیر کےلیے مشرقی تیمور رکیں جہاں اُنھوں نے کہا کہ اُن کے دورے کا مقصدایک ’صاف اور واضح اشارہ‘ دیناہے کہ امریکہ پیسیفک میں ایک طاقت کا درجہ رکھتاہے۔
XS
SM
MD
LG