رسائی کے لنکس

شمالی کوریا اور ایران کے خلاف چین کے تعاون کی ضرور ت پر زور

  • ب

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے شمالی کوریا اور ایران کے خلاف ایک بین الاقوامی حکمت عملی وضع کرنے میں چین کے تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل میں ہونے والے اُن حالیہ مذاکرات کی طرف بھی توجہ دلائی جن کے نتیجے میں ایران پر نئی پابندیاں لگانے کے لیے ایک مجوزہ قرارداد کا مسودہ تیار کیا گیا ہے تاکہ تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔

انھوں نے ان خیالات کا اظہار دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پیر کو بیجنگ میں شروع ہونے والے مذاکرات کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیر خارجہ کلنٹن نے کہا کہ شمالی کوریا کی طرف سے ایٹمی دھماکا کرنے پر گزشتہ سال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے اُس پر لگائی گئی پابندیوں کے فیصلے پر بھی امریکہ اور چین نے تعاون کیا تھا۔

چین میں انسانی حقوق سے متعلق امریکی خدشات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ہر معاملے پر اتفاق رائے نہیں ہو سکتا لیکن اِن پر کھل کر بات چیت کی جائے گی۔

چینی صدر ہو جن تاؤ نے سیاسی و اقتصادی اجلاسوں کی افتتاحی تقاریب کے دوران دونوں عالمی طاقتوں کو اقتصادی پالیسی میں رابطوں کی مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ لیکن انھوں نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ کرنسی کے تبادلے کی شرح کا تعین چین خود کرے گا۔

امریکہ کا الزام ہے کہ عالمی منڈی میں چینی برآمدات کو سستے داموں بیچنے کے لیے چین نے جان بوجھ کر اپنی کرنسی کی قدر کو کم کر رکھا ہے۔ لیکن چین اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔

خیال رہے کہ چین میں ہونے والے دو روزہ دو طر فہ” اسٹریٹیجک اور اقتصادی مذاکرات“ میں وزیر خارجہ کلنٹن کی سربراہی میں امریکی حکومت کے 200 عہدے داروں پر مشتمل وفد شرکت کر رہا ہے جس میں وزیر خزانہ بھی شامل ہیں۔ یہ اجلاس دارالحکومت بیجنگ کے ”گریٹ ہال آف دی پیپل“ میں ہو رہا ہے۔

باور کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کی طرف سے جنوبی کوریا کے جنگی بحری جہاز کو ڈبونے سے پیدا ہونے والی صورت حال اور ایران کا مشتبہ جوہری پروگرام امریکہ اور چین کے مابین ہونے والی اس اعلیٰ سطحی بات چیت میں زیر بحث آئیں گے۔

چین کے ایران کے ساتھ مضبوط اقتصادی و تجارتی تعلقات ہیں اور وہ تہران پر نئی پابندیاں لگانے کی حمایت نہیں کرتا۔ لیکن بیجنگ نے حال ہی میں ایران پرپابندیوں کے لیے اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی اُس مجوزہ قرارداد کی حمایت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جس کا مسودہ امریکہ نے تیار کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG