رسائی کے لنکس

کرغز تشدد، عجلت میں الزام تراشی سے گریز کیا جائے: کلنٹن کا انتباہ

  • ڈیوڈ گولسٹ

وزیرِ خارجہ

وزیرِ خارجہ

کلنٹن نے جمعے کے روز ڈینمارک کی وزیرِ خارجہ لین الیسپرسن کے ساتھ ملاقات میں کرغز ستان اور افغانستان کی صورتِ حال پر بات چیت کی

امریکی وزیرخارجہ ہلری کلنٹن نےوسط ایشیائی ریاست کو اپنی لپیٹ میں لینےوالے تشدد کا الزام نسلی اختلافات پر دھرنے کےخلاف انتباہ کرتے ہوئے، اِس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ کرغزستان کی عبوری حکومت کی حمایت کرتا ہے۔

کلنٹن نےجمعےکےروز ڈینمارک کی وزیرِ خارجہ لین الیسپرسن کےساتھ ملاقات میں کرغزستان اورافغانستان کی صورتِ حال پر بات چیت کی۔

امریکی وزیرِ خارجہ کلنٹن نےکہا کہ اِن الزامات کو سنجیدگی سے لینےکی ضرورت ہےآیا تشدد کی کارروائی کرغزستان کے معزول لیڈر کرمان بیک باکی یوف کے حامیوں کی شہہ پر ہورہی ہے اورکیا إِس میں کرغز سکیورٹی افواج حصہ لے رہی ہیں۔

تاہم اُنھوں نے کہا کہ جب تک الزامات کا تعین ہو، ضرورت اِس بات کی ہے کہ بشکک کی عبوری حکومت کی حمایت کی جائے، اور ہنگامہ آرائی سے متاثرہ لوگوں تک انسانی ناطے امداد پہنچائے جائے، بشمول اُن ازبکوں کےجنھوںنےازبکستان میں پناہ لے رکھی ہے۔

کلنٹن نے ڈینمارک کے وزیرِٕ خارجہ کے ساتھ کرغز صورتِ حال پر بات کی، جب کہ جنوب اور وسطی ایشیائی امورکے بارے میں نائب وزیرِ خارجہ رابرٹ بلیک نے ازبک سرحدی علاقے کا دورہ کرنے کے بعد بشکک میں مذاکرات کا آغاز کردیا ہے۔

ڈینمارک کے ہم منصب کےساتھ اخباری کانفرنس میں کرغز افواج کی طرف سےممکنہ نسل کشی کے بارے میں سوال پر، کلنٹن نے کہا کہ ہنگامہ آرائی کی وجوہات کے بارے میں کوئی حتمی رائے زنی کرنا قبل از وقت ہوگی۔

اُن کا کہنا تھا کہ معاملے کے کئی محرک اور وجوہات ہیں۔

اِس لیے ہمارا نقطہٴ نظر یہ ہے کہ امن کو بحال کرنے کے کام میں عبوری حکومت کی مدد کی جائے، ازبکستان کا ساتھ دیا جائے جس نے لاکھوں بھاگ نکلنے والے ازبکوں کے لیے اپنی سرحدیں کھول دی ہیں، جتنی جلد ممکن ہوانسانی ہمدردی کی بنیادوں پر فوری اور مربوط امداد کے حصول کے لیے کام کیا جائے، اورصورتِ حال میں استحکام لانے میں مدد دینے کے لیے بین الاقوامی برادری کا ہاتھ بٹایا جائے۔

کلنٹن کا کہنا تھا کہ اُنھوں نےجمعرات کے روز کرغزستان کی عبوری لیڈر، روزا اُتن بایوف اور ازبکستان کے صدراسلام کریموف سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔

جمعرات تک امریکہ، کرغزستان اور متاثرہ ازبک سرحدی علاقے کے لیےانسانی ہمدردی کے ناطے تین کروڑ 20لاکھ ڈالر کی امداد کا اعلان کر چکا ہے۔

دونوں وزرائےخارجہ کےدرمیان ازبکستان کےعلاوہ افغانستان کی صورتِ حال پربھی تبادلہ ٴ خیال کیا، جہاں ہلمند اور دیگر مقامات پر نیٹو کی قیادت میں اتحاد میں شامل ڈینمارک کی فوج کو کافی ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

کلنٹن نے کہا کہ افغانستان میں حکومیا استعداد بڑھانے، تعلیم اور زراعت کو فروغ دینے کے شعبوں میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے، لیکن اِس کام کو مؤثر طور پر بیان نہیں کیا گیا۔

وزیرِ خارجہ نے تصدیق کی کہ 20جولائی کوکابل میں افغان کانفرنس میں شرکت کریں گی، جو جنوری میں لندن میں افغان امداد دینے والے ملکوں کی کانفرنس کا تسلسل ہے۔

XS
SM
MD
LG