رسائی کے لنکس

امریکی وزیر خارجہ کے اس طویل دورے میں یورپی راہنماؤں کے ساتھ مذاکرات میں شام، افغانستان اور ایران کے موضوعات پر گفتگو کی توقع کی جارہی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اپنے یورپ کے طویل دورے کے آغاز پر اب ڈنمارک میں ہیں ۔ توقع کی جارہی ہے کہ ان کا یہ دورہ شام، افغانستان اور ایران پر مرکوز ہوگا۔

ہلری کلنٹن کے ساتھ اس دورے میں شامل امریکی محکمہ خارجہ کے سینیئر عہدےداروں کا کہناہےکہ کوپن ہیگن، اوسلو اور سکاٹ ہوم میں حکومتی راہنماؤں کے ساتھ مذاکرات میں یہ پہلو بھی شامل ہیں کہ شام کے صدر بشارالاسد پر سفارتی، اقتصادی اور سیاسی دباؤمیں کس طرح اضافہ کیا جائے۔

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے سفارتی نمائندے کوفی عنان دمشق کی حکومت سے ملک میں پندرہ ماہ سے جاری تشدد ختم کرانے سے متعلق معاہدوں پر کوئی ٹھوس یقین دہانی حاصل کیے بغیر بدھ کو شام سےچلے گئے تھے۔

ڈنمارک، ناورے اور سویڈن کے اپنے دورے میں مزکلنٹن، عالمی ترقی، آب و ہوا کی تبدیلیاں ،بلقان، مشرق وسطیٰ، لیبیا ، اور افغانستان سے متعلق ان کی خدمات پر اپنے اسکینڈے نیوین اتحادیوں کاشکریہ ادا کریں گی۔

لیبیا کے تنازع میں فضائی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے نیٹو کے طیاروں نے بہت دفعہ ڈنمارک اور ناروے سے پروازیں کیں اور سویڈن نے لیبیا میں قائم کیے جانے والے نو فلائی زون کو مؤثر بنانے میں مدد دی۔ ان تینوں ممالک کے فوجی افغانستان میں تعینات ہیں اور وہ دسمبر 2014ء تک اپنے فوجی دستے وہاں رکھنے پر متفق ہوچکے ہیں۔

وزیر خارجہ کلنٹن اپنے اس دورے میں ایران کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات اور ان سہولتوں پر بھی بات چیت کریں گے جو بین الاقوامی کمیونٹی اس صورت میں تہران کو دینے کے لیے تیار ہیں اگر وہ یہ ثابت کردے کہ اس کے جوہری پروگرام کا مقصد ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری نہیں ہے۔

کوپن ہیگن میں امریکی وزیر خارجہ جمعرات کو ملکہ مارگریٹ ، وزیر خارجہ ولی سوندل اور وزیر اعظم ہیل تھورنگ شمٹ سے الگ الگ ملاقات کریں گی۔

سیکنڈے نیویا میں اپنے قیام کے بعد ہلری کلنٹن آرمینیا، آزربائیجان، جارجیا اور ترکی بھی جائیں گی۔

XS
SM
MD
LG