رسائی کے لنکس

اپنی کتاب میں، اُنھوں نے کہا ہے کہ 2001ء کے دہشت گرد حملوں کے بعد، عراق اور افغان جنگوں کے دوران اور معاشی کساد بازاری سے نمٹنے کے سلسلے میں حکومت کو ’بہتر کارکردگی کی ضرورت تھی‘، اور، اُن کے خیال میں،’ایسا ہی ہوا‘

ہلری کلنٹن نے اپنی نئی کتاب میں کہا ہے کہ اُنھیں وزیر خارجہ کی حیثیت سے اپنی سفارتی کامیابیوں پر’ فخر‘ ہے۔

کلنٹن کی کتاب ’ہارڈ چوائسز‘ 10 جون کو مارکیٹ میں آنے والی ہے، ایسے میں جب یہ قیاس آرائی زور پکڑتی جا رہی ہے کہ وہ 2016ء کے صدارتی انتخابات کی ممکنہ امیدوار ہوں گی۔

مصنفہ کی حیثیت سے تحریر کردہ اپنے نوٹ میں، منگل کے روز ہلری کلنٹن نے یہ تسلیم کیا کہ امریکہ کے اعلیٰ ترین سفارت کار کی حیثیت سے وہ کچھ معاملات میں اختیار کیے گئے مؤقف پر دوبارہ غور کرنے کے بارے میں سوچ سکتی ہیں۔

تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ 2001ء کے دہشت گرد حملوں کے بعد، عراق اور افغان جنگوں کے دوران اور معاشی کساد بازاری سے نمٹنے کے سلسلے میں حکومت کو ’بہتر کارکردگی دکھانے کی ضرورت تھی‘، اور، اُن کے خیال میں، ایسا ہی کیا گیا۔

ناقدین وزیر خارجہ کے طور پر ہلری کلنٹن کے چار سالہ دور کو، خاص کامیابیوں سےخالی قرار دیتے ہیں۔ ریپبلیکنز 11 ستمبر، 2012ء میں لیبیا کے شہر بن غازی میں ہونے والی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اختیار کی گئی امریکی کوششوں پر سوال اٹھاتے رہے ہیں، جس واقعے میں چار امریکی ہلاک ہوئے۔

مصنف کے نوٹ میں، ہلری کلنٹن لکھتی ہیں کہ اپنی زندگی کے بڑے فیصلے کرتے وقت وہ اپنے دل اور دماغ کی آواز کو سنا کرتی تھیں۔
XS
SM
MD
LG