رسائی کے لنکس

امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا کہ آج بھی دنیا بھر میں دوکروڑ 70 لاکھ سے زائد مردوں، عورتوں اور بچوں سے جبری مشقت لی جارہی ہے جو "ہماری بنیادی اقدار سے متصادم ہے"

امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے انسانی اسمگلنگ کو غلامی کی جدید شکل قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

جمعرات کو صدرِ امریکہ کی 'انسدادِ انسانی اسمگلنگ ٹاسک فورس' کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری کلنٹن نے کہا کہ رواں برس ستمبر میں سابق امریکی صدر ابراہم لنکن کی اس تقریر کے 150 برس پورے ہوجائیں گے جس میں انہوں نے امریکہ میں موجود تمام نجی غلاموں کو آزاد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی خانہ جنگی کے دوران میں کیے جانے والے اس اعلان کے تحت اس وقت کی باغی جنوبی ریاستوں کے ہزاروں سیاہ فام افراد کو غلامی کی زندگی سے نجات مل گئی تھی۔

اپنے خطاب میں امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ صدر لنکن کے اس اعلان کی 150 ویں سال گرہ ایک بہترین موقع ہے کہ امریکہ "آزادی کے وعدے" سے اپنی وابستگی کا اعادہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی دنیا بھر میں دوکروڑ 70 لاکھ سے زائد مردوں، عورتوں اور بچوں سے جبری مشقت لی جارہی ہے جو ان کے بقول "ہماری بنیادی اقدارسے متصادم ہے"۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اوباما انتظامیہ نے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام میں پیش قدمی کی ہے جس کے تحت 37 ممالک کو مختلف متعلقہ منصوبوں کی مد میں امداد دی جارہی ہے۔

وہائٹ ہائوس میں ہونے والے اجلاس میں داخلی سلامتی کی امریکی وزیر جینٹ نپولیٹانو اور امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی (یو ایس ایڈ) کے سربراہ راجیو شاہ بھی شریک تھے۔

اس ٹاسک فورس انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے امریکہ کے وفاقی اداروں کے درمیان رابطے کا کام انجام دینا ہےاور اس کا قیام سنہ 2000 میں منظور کردہ قانون کے تحت عمل میں آیا تھا۔ امریکی وزیرِ خارجہ وزارتی سطح کی اس ٹاسک فورس کی سربراہ ہیں۔

XS
SM
MD
LG