رسائی کے لنکس

بحیرہٴ جنوبی چین: امریکہ,انڈونیشیا کی طرف سے مزیدپیش رفت پرزور

  • ڈیوڈ گولسٹ

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن اور انڈونیشیا کے وزیرِ خارجہ مارٹی نتالی گاوا بالی میں ہونے والے ایک مشترکہ اجلاس کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن اور انڈونیشیا کے وزیرِ خارجہ مارٹی نتالی گاوا بالی میں ہونے والے ایک مشترکہ اجلاس کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔

کلنٹن اور اُن کے انڈونیشی ہم منصب نے آسیان اور چین کے سمجھوتے کو سراہا ۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک ابتدائی قدم کی حیثیت رکھتا ہے، اور بحیرہٴ جنوبی چین میں عدم استحکام اور رقابت کے باعث معاملے کو حل کرنے کے لیے واضح شرائط پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔

اتوار کے روز امریکہ اور انڈونیشیا نےمطالبہ کیا کہ بحیرہ ٴجنوبی چین میں علاقائی تنازعات کے پُرامن تصفیے کےلیے چین اور آسیان ممالک کی طرف سےکیے گئے سمجھوتے پر فوری عمل درآمدکیا جائے۔ امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن اور انڈونیشیا کے وزیرِ خارجہ مارٹی نتالی گاوا نے بالی میں ہونے والے ایک مشترکہ اجلاس کےدوران اِس تنازعے پر بات چیت کی۔

’وائس آف امریکہ‘ کے نمائندے ڈیوڈ گولسٹ نے انڈونیشیا کے صحت افزا مقام بالی سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ

کلنٹن اور اُن کے انڈونیشیائی ہم منصب نے آسیان اور چین کے سمجھوتے کو سراہا ۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک ابتدائی قدم کی حیثیت رکھتا ہے، اور بحیرہٴ جنوبی چین میں عدم استحکام اور رقابت کے باعث معاملے کو حل کرنے کے لیے واضح شرائط پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔

بالی میں آسیان کے علاقائی فورم کے اجلاس کے بعد امریکہ انڈونیشیاباہمی مشترکہ کمیشن کےایجنڈے کےایک حصے کے طور پر دونوں اعلیٰ سفارت کاروں نے بات چیت کی۔
ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں ہلری کلنٹن نے کہا کہ بحیرہ ٴجنوبی چین میں بحری ذرائع کے اہم تجارتی راستے پر کسی تنازعے سے دور رہنے کے لیے کسی باضابطہ طریقہٴ کار پر عمل درآمد کرنا ہوگا جس کے لیے آسیان اور چین کوزیادہ تیزی سے، بلکہ فوری طور پر، آگے بڑھنا ہوگا۔

اُن کے بقول،اِس سارے تنازعات کے حل کے لیے،ہم سب دعوے داروں کے اشتراک پر مبنی سفارتی عمل کو آگےبڑھانے کی حمایت کرتے ہیں۔ہم جِس بات کی تائید نہیں کرتے اورسختی سےمخالف ہیں وہ یہ ہے کہ کوئی بھی ملک اپنے دعووٴں کو آگے بڑھا تے ہوئے طاقت کا استعمال کرے یا طاقت کے استعمال کی دھمکی سے کام لے۔
چین تقریباً سارے کے سارے خطے پر اپنا حق جتاتا ہے، جب کہ فلپائن ، ملائیشیا، برونائی، ویتنام اور تائیوان کے بحیرہٴ جنوبی چین کے مختلف حصوں پر مسابقت والے دعوے ہیں۔

ہلری کلنٹن نے کہا کہ تصفیے کا کوئی بھی عمل اِس طرح شروع ہونا چاہئیے کہ سارے فریقین اپنے متحارب دعوے سامنے لائیں۔ اُنھوں نے کہا کہ سارے دعووٴں کا تعین قانون اور سمندروں کےبارے میں اقوام متحدہ کے سمجھوتے کے حوالے سے ہونا چاہیئے، جِن کا انحصار، اُن کے بقول، علاقائی خصوصیات پر مبنی ہونا چاہیئے۔

آٹھ سال کی ناکام سفارت کاری کے بعد، انڈونیشیا اِن اجلاسوں کی میزبانی کے ذریعے ابتدائی سمجھوتے تک پہنچنے میں کامیاب رہا ہے۔

انڈونیشیا کے وزیرِ خارجہ نتالی گاوا نے کہا کہ اُنھیں توقع ہے کہ اُن کے ملک کی طرف سے مشرقی ایشیا سربراہ اجلاس کے انعقادسے قبل اِس عمل کی طرف مزید پیش رفت ہوگی۔ یہ سربراہ اجلاس نومبر میں پہلی بار منعقد ہوگا جِس میں امریکہ بھی شریک ہوگا۔

نتالی گاوا کے بقول، ہم پوری سچائی اور ایمانداری سے یہ ٕمحسوس کرتے ہیں کہ کسی بات کو آگے بڑھنے نہ دینا، معاملات کو جوں کا توں رکھنا درحقیقت عدم استحکام ، بے یقینی کو جنم دینےاور ممکنہ غلط اندازے لگانے کا باعث بنے گا۔ اور اِسی بات سے ہم بچنا چاہتے ہیں۔ مقصد اور دعووٴں کی بنیاد میں شفافیت کے عنصر کا ہونا بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم، اِس سارے معاملے کو سفارتی عمل کےدائرے میں لانا ہوگا۔

ہلری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ اِس بات کی حمایت کرتا ہے کہ علاقائی شکایات کے ازالے کے لیےانڈونیشیا کی حکومت اور پاپوا کے نمائندوں کو منصفانہ مذاکرات کرنا ہوں گے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ انڈونیشیا کی علاقائی یکجہتی کی حمایت کرتا ہے، جِس حوالے کا تعلق پاپووا کے کچھ نسلی لوگوں کی طرف سے علیحدگی اور ہمسایہ پاپوا نیو گِنی کے ساتھ متحدہونے کے مطالبوں سے ہے۔

XS
SM
MD
LG