رسائی کے لنکس

انٹرنیٹ کی آزادی کو فروغ دیا جائے: کلنٹن


امریکی وزیر خارجہ ہیگ میں’انٹرنیٹ کی آزادی‘ پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

امریکی وزیر خارجہ ہیگ میں’انٹرنیٹ کی آزادی‘ پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

جب خیالات پر روک ہو، اطلاعات حذف کی جائیں، گفتگو پر قدغن عائد ہو اور لوگوں کو اپنی پسند سے کام نہ کرنے دیا جائے، تو پھر ایسے میں، عوام الناس کے لیے انٹرنیٹ بے سود ہوکر رہ جائے گا

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے سافٹ ویئر تیار کرنے والے اور دیگر ہائی ٹیک اداروں پر زور دیا ہےکہ وہ عوام پر مظالم ڈھانے والی حکومتوں کو ایسی ٹیکنالوجی فروخت نہ کریں، جس کی مدد سے وہ انٹرنیٹ کی آزادیوں پر قدغن لگا سکیں۔

وزیر خارجہ نے یہ بات جمعرات کے دِن ’انٹرنیٹ کی آزادی‘ پرہیگ میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب میں کہی۔

ہیلری کلنٹن نے حاضرین کو بتایا کہ جب خیالات پر روک ہو، اطلاعات ڈلیٹ کی جائیں، گفتگو پر قدغن عائد ہو اور لوگوں کو اپنی مرضی سے کام نہ کرنے دیا جائے، تو پھر ایسے میں، عوام الناس کے لیے انٹرنیٹ بے سود ہوکر رہ جائے گا۔


اُنھوں نےکہا کہ آن لائن آزادی کی مکمل حفاظت کرنا اولین ترجیح کا معاملہ ہے، اور یہ کہ آمرانہ حکومتوں سے کاروبار کرنے سےقبل کارپوریشنوں کو اپنی شہرت برقرار رکھنےکی فکر کرتے ہوئےدو مرتبہ سوچ بچار کرنا چاہیئے۔

اعلیٰ ترین امریکی سفارت کار نے کمپیوٹر کمپنیوں پرزور دیا کہ ایسے ممالک کو اپنی مصنوعات فروخت کرنے میں محتاط رہیں، کیونکہ یہ حکومتیں اِنھیں اپنے ہی شہریوں کے ’ڈیجیٹل حقوق‘ پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے استعمال کریں گی۔

اُنھوں نے کہا کہ جب یہ کمپنیاں شام یا ایرانی سکیورٹی ادارے، یا پھر ماضی میں لیبیا کو، چوکسی کے آلات فروخت کریں گی تو اِس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ اِن کا استعمال انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے لیے ہی ہوگا۔

ڈینمارک کے وزیر خارجہ، اُری روزنتھال نے کہا کہ یہ بات اشد ضروری ہے کہ جمہوری ملکوں میں تیار ہونے والی تیکنالوجی انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں حصے دار بننے کےلیے استعمال نہیں ہونی چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG