رسائی کے لنکس

اسلامی انتہا پسند گروپ امریکہ کی سکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ ہیں: ہلری کلنٹن


امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ کیثر قومیتی اسلامی انتہاپسند نیٹ ورکس امریکہ کے لیے ایران اور شمالی کوریا کے جوہری پروگراموں سے بڑا خطرہ ہیں۔

وزیر خارجہ کلنٹن کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ کوافغانستان، پاکستان ، سعودی عرب ، یمن اور شمالی افریقہ میں موجودہ القاعدہ کے وفادار غیر ریاستی گروپوں کے درمیان تعلقات پر تشویش ہے۔ انہوں نے یہ بات اتوار کے روز ایک امریکی ٹیلی ویژن چینل سی این این پر انٹرویو دیتے ہوئے کہی ۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ جوہری طورپر مسلح ایران یا شمالی کوریا بھی امریکہ کے لیے ایک حقیقی اوربڑا خطرہ ہیں۔ ایران اس بات سے انکارکرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاربنانے کی کوشش کررہاہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیاروں کے تجربے کرچکاہے اور اس نے بین الاقوامی امداد اور دیگرترغیبات کے حصول کے لیے اپنے جوہری پروگرام کے خاتمے سے متعلق چھ ملکی مذاکرات کا راستہ بند کردیا ہے۔

وزیر خارجہ کلنٹن کا کہناہے کہ ان کے خیال میں ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود نہیں ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ تہران کا طرز عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے قم شہر کے نزدیک یورینیم کی افزدوگی کے پلانٹ کی تعمیر شروع کرنے تک اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

ایران نے پچھلے سال ستمبر میں اس خفیہ تنصیب کے بارے میں انکشاف کیا تھا جس سے مغربی ممالک کی برہمی میں اضافہ ہواتھا، جنہیں شبہ ہے کہ ایران کا یورینیم کی افزودگی کا پروگرام جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے ہے۔

وزیر خارجہ کلنٹن نے ، ایرانی یورینیم کو افزودگی کے لیے روس اور فرانس بھیجنے کے اقوام متحدہ کی ثالثی کے مجوزہ منصوبے سے تہران کے انکار پر بھی تنقید کی۔ مغربی ملکوں کو خدشہ ہے کہ یورینیم کی نگرانی کے بغیر افزودگی سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں مدد مل سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG