رسائی کے لنکس

کلنٹن کا افغانستان کے ساتھ دیرپا امریکی عزم کا اعادہ


کلنٹن کا افغانستان کے ساتھ دیرپا امریکی عزم کا اعادہ

کلنٹن کا افغانستان کے ساتھ دیرپا امریکی عزم کا اعادہ

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان کو چھوڑ نہیں دے گا، اور یہ کہ آخری امریکی فوجی کے ملک سے انخلا کے بعد بھی امریکہ افغانستان کا ساتھ جاری رکھے گا۔

منگل کے روز واشنگٹن میں دِن بھر کے مذاکرات کے آغاز پر کلنٹن نے افغان صدر حامد کرزئی کو بتایا کہ امریکہ افغانستان کی سلامتی اور ترقی میں تعاون کے عزم پر قائم رہے گا۔

امریکہ، افغان حکومت اور صدارتی انتخابات میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی پر اعلانیہ نکتہ چینی کرتا رہا ہے، جِن میں دھاندلی کے الزامات لگے، اور جس میں مسٹر کرزئی کی دوسری مدت کے لیے جیت ہوئی۔

دوسری طرف، افغان لوگ امریکی قیادت میں جاری فوجی کارروائیوں میں سولین ہلاکتوں پر سخت شکایت کا اظہارکیا ہے۔

اپنے ابتدائی کلمات میں مسٹر کرزئی اور وزیرِ خارجہ کلنٹن نے امریکہ افغان ساجھے داری کی پائیداری پر زور دیا۔ کلنٹن نے کہا کہ یہ پارٹنرشپ موجودہ تنازع کے خاتمے کے بعد بھی جاری رہے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ دو خود مختار ممالک سےتوقع نہیں کرنی چاہیئے کہ اُن میں ہر بات پر اتفاقِ رائے ہوگا۔ اُنھوں نےکہا کہ اختلاف کرنے کی استعداد سے اعتماد کی سطح کی غمازی ہوتی ہے، جو معنی خیز مذاکرات کے لیے لازم امر ہے۔ مسٹر کرزئی نے کہا کہ اِس طرح کے اختلافات دراصل پختہ تعلقات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر کرزئی نے افغانستان میں امریکی امداد پر کلنٹن کا شکریہ ادا کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکی افواج کی طرف سےدی جانے والی قربانیوں اور امریکی مالی امداد کے بغیر تعلیم، انفرا سٹرکچر، اور سلامتی کے معاملات میں پیش رفت ممکن نہ تھی۔

افغان رہنما نے کہا کہ وہ عدالتی آزادی کی حرمت اور شہری آبادی کے تحفظ کے حصول کےلیے کوشاں ہیں۔

فوجی کارروئیوں کے دوران شہری ہلاکتوں کو کم سے کم رکھنے کے لیے کی جانے والی نئی کوششوں پر اُنھوں نے افغانستان میں امریکی فوجی کمانڈر جنرل سٹینلی میک کرسٹل کا شکریہ ادا کیا، جِن کے نتائج برآمد ہونا شروع ہوگئے ہیں ، اورکسی واقع کی صورت میں امریکہ کی طرف سے فوری معذرت کی جاتی ہے۔

افغان راہنما، جِن کے ہمراہ کابینہ کے درجن بھر ارکان ساتھ ہیں، وہ بدھ کے روز صدر براک اوباما اور نائب صدر جو بائیڈن سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

XS
SM
MD
LG