رسائی کے لنکس

55 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز کا کہنا تھا کہ وہ ہلری کلنٹن کے بارے میں موافق رائے نہیں رکھتے۔ تاہم ناموافق رائے کی شرح ٹرمپ کے لیے 66 فیصد ہے۔

رواں ہفتے امریکی رائے دہندگان کے ہونے والے جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اپنی حریف ڈیموکریٹک ہلری کلنٹن سے ایک واضح فرق کے ساتھ پیچھے ہیں۔

میکلاچی میرسٹ پول کے تازہ ترین جائزے کے مطابق ہلری کلنٹن 48 فیصد اور ٹرمپ 33 فیصد پسندیدگی کی شرح پر ہیں۔ گزشتہ ماہ میں کیے گئے سروے میں یہ فرق 42 اور 39 فیصد تھا۔

میرسٹ کالج پولنگ گروپ کے ڈائریکٹر لی میرینگوف کہتے ہیں کہ ووٹرز کی تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی پسندیدگی ظاہر کرتی ہے کہ "ٹرمپ کی صدارتی امیدواری خطرے میں ہے۔"

یہ جائزہ رواں ہفتے پیر سے بدھ کے درمیان کیا گیا اور میرینگوف کے مطابق ٹرمپ کی طرف سے "غلطیوں کی ایک طویل فہرست بشمول ڈیموکریٹ قومی کنونشن میں شریک مسلمان جوڑے پر تنقید" نے کلنٹن کا پلڑہ بھاری کرنے میں کردار ادا کیا۔

لیکن سروے میں کئی اور اشاریے ایسے بھی ہیں جو سابق وزیرخارجہ ہلری کلنٹن کے لیے مثبت نہیں۔ میرسٹ پول کے مطابق 40 فیصد رجسٹرڈ ووٹر کہتے ہیں کہ وہ ہلری کلنٹن کی حمایت صرف اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ وہ ٹرمپ کے مخالف ہیں۔

55 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز کا کہنا تھا کہ وہ ہلری کلنٹن کے بارے میں موافق رائے نہیں رکھتے۔ تاہم ناموافق رائے کی شرح ٹرمپ کے لیے 66 فیصد ہے۔

میکلاچی اور جینفورورڈ کی طرف سے کیے گئے جائزوں کے مطابق 18 سے 30 سال کے 25 فیصد ووٹرز ٹرمپ کے بارے میں موافق رائے رکھتے ہیں۔

میکلاچی کے سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ 23 فیصد ووٹرز ایک تیسری جماعت لبرٹیرین کے صدارتی امیدوار گیری جانسن کو ووٹ دیں گے جب کہ جینفورورڈ کے مطابق دس میں سے سات ووٹرز یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ جانسن کے بارے اتنا نہیں جانتے کہ انھیں ووٹ دیں۔

گرین پارٹی کی امیدوار جل اسٹئین کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے اور میکلاچی کے جائزے کے مطابق 16 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ انھیں ووٹ دیں گے۔

XS
SM
MD
LG