رسائی کے لنکس

امریکی وزیر خارجہ کی صدر بشارالاسد پر کڑی تنقید


امریکی وزیر خارجہ کی صدر بشارالاسد پر کڑی تنقید

امریکی وزیر خارجہ کی صدر بشارالاسد پر کڑی تنقید

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہےکہ شام کے صدر بشار الاسد نے اپنے ملک کے لیے عرب لیگ کی معاونت سے بنائے گئے امن منصوبے کی بڑی منظم انداز میں خلاف ورزی کی ہے۔ اپنی ایک پالیسی تقریر میں انہوں نے کہا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں جمہوری اصلاحات کی بغیر تحفظات کے حمایت کرتا ہے۔

واشنگٹن میں نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے اعتراف کیا کہ امریکہ نے ہمیشہ اصلاح پر زیادہ زور نہیں دیا ہے اور اکثر مشرق وسطیٰ کے آمروں کے پیش کردہ موقف کو قبول کیا، کیونکہ انتہا پسندی سے پچنے کا یہی ایک راستہ تھا کہ ان کی حمایت کی جائے۔

خطے میں اصلاحات کے لیے سرگرم افراد پر مشتمل حاضرین سے مخاطب ہوتے ہوئے مز کلنٹن نے کہا کہ امریکہ اب تسلیم کرتا ہے کہ اصل انتخاب اصلاح اور بدامنی کے درمیان کرنا ہوگا۔

ان کا کہناتھا کہ سچ یہ ہے کہ آج مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی واحد وجہ تبدیلی کا مطالبہ نہیں بلکہ تبدیلی سے انکارہے۔ اور یہ واقعتاً شام پر صادق آتا ہے جہاں تھوڑی تعداد میں پرامن احتجاج کرنے والوں کو کچلنے کی کارروائی ہزاروں افراد کو سڑکوں اور ہزاروں کو سرحد پر لے آئی۔

یہی بات یمن پر بھی صادق آتی ہے جہاں صدر علی عبداللہ صالح بارہا جمہوریت کی جانب منتقلی کے اپنے وعدوں سے منحرف ہوئے اور انہوں نے اپنے لوگوں کے حقوق اور آزادیاں سلب کرلیں۔ اور یہی مصر پر بھی صادق آتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر مصر میں اقتدار چند غیر منتخب عہدےداروں کے ہاتھوں میں رہا تو ملک ایک تاریخی موقع گنوا دے گا اور مستقبل کی بدامنی کا بیج بودیا جائے گا۔

تاہم انہوں نے سب سے کڑی تنقید شام کے صدر بشارالاسد پر کی جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ شام کے صدر نے گذشتہ ہفتے عام شہریوں کے تحفظ کے لیے عرب لیگ کے امن منصوبے کی ہر شق کو ٹھکرادیا۔

ان کا کہناتھاکہ انہوں نے اس منصوبے کے تمام بنیادی تقاضوں کی منظم انداز میں خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے تمام قیدیوں کو رہا نہیں کیا۔ انہوں نے صحافیوں یا عرب لیگ کے مبصرین کو بلاروک ٹوک رسائی کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے گنجان آباد علاقوں سے تمام مسلح فورسز کو واپس نہیں بلایا اور یقنناً انہوں نے تمام پرتشدد کارروائیاں بند نہیں کیں۔

مز کلنٹن کا کہناتھا کہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی حکومت نے حمص شہر جیسے علاقوں میں شہریوں کے خلاف تشدد میں اضافہ کردیا ہے ۔ اب ہوسکتا ہے کہ صدر اسد تبدیلی میں تاخیر کردیں مگر وہ اپنے لوگوں کو جائز مطالبات کو غیر معینہ عرصے کے لیے مسترد نہیں کرسکتے۔

کلنٹن نے واشنگٹن کے اس مطالبے کا اعادہ کیا کہ شام کے لیڈر اقتدار چھوڑ دیں اور جب تک وہ ایسا نہیں کرتے امریکہ اور عالمی برداری ان پر دباؤ میں اضافہ جاری رکھے گی۔ امریکی وزیر خارجہ نے شام کے بڑے سفارتی اتحادی ایران پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہاں کی حکومت نے منافقت کی حد کردی ہے جو بیرونی ملک جمہوریت کی حمایت کرتی ہے مگر تہران کی سڑکوں پر پرامن احتجاج کرنے والوں کو ہلاک کرتی ہے۔

کلنٹن نے کہا کہ امریکہ منتخب اسلامی پارٹیوں کے ساتھ کام کرنے پر تیار ہے ۔ لیکن شرط یہ ہے کہ وہ امن عامہ کے اصولوں کی پابندی کریں ، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا احترام کریں اور اگر انتخاب ہارجائیں تو اقتدار سے دست بردار ہوجائیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوششوںمیں تعطل پر بھی بے چینی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عرب اسرائیل تنازع میں تعطل مشرق وسطیٰ کے حالات تبدیل نہ ہونے کا ایک اور سبب ہے جو ہمیشہ برقرار نہیں رہ سکتا۔ اور نہ ہی دونوں فریق امن کے قیام کو ہمیشہ روکے رکھ سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG