رسائی کے لنکس

یہ اتحاد دوسری جنگ عظیم کے بعد تشکیل دیا گیا، جسے اُنھوں نے عالمی استحکام اور سلامتی کا سب سے بڑا فوجی اتحاد قرار دیا

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے سلامتی سے متعلق نیٹو کےاتحاد کی طرف سے حاصل کردہ ’اہم پیش رفت‘ کو سراہا ہے، ایسے میں جب اُنھوں نے نیٹو کے وزرائےخارجہ کے اجلاس میں اپنی شرکت کو آخری ملاقات قرار دیا۔

بدھ کے دِن برسلز میں ہلری کلنٹن نے کہا کہ اعلیٰ امریکی سفارت کار کے طور پر چار برس کی تعیناتی کے دوران اُنھوں نے نیٹو ہیڈکوارٹرز میں کافی وقت گزارا، جسے اُنھوں نےاپنا ’کارآمد ترین وقت ‘ قرار دیا۔

اِس بار ہلری کلنٹن نےنیٹو ہیڈکوارٹرز میں دو دِن گزارے اور 28ارکان کے ساتھ ملاقات کی۔

یہ اتحاد دوسری جنگ عظیم کے بعدتشکیل دیا گیا، جسے اُنھوں نے عالمی استحکام اور سلامتی کاسب سے بڑا فوجی اتحاد قرار دیا۔

اتحاد کا سب سے کلیدی اصول یہ ہے کہ کسی ایک رکن کے خلاف جنگ چھیڑنے کا مطلب سب کے خلاف جنگ ہے، جو سرد جنگ کے دور میں جب اتحاد تشکیل دیا گیا ، ایک اہم اصول کے طور پر ابھر کر سامنے آیا، جب مغربی یورپی ممالک کو سوویت یونین کی طرف سے جوہری حملےکا خدشہ لاحق تھا۔

ہلری کلنٹن نےاتحاد کی کامیابیوں کوسراہا جِن میں افغانستان میں نیٹو کی قیادت میں لڑنے کے لیے فوجیں روانہ کرنا اور روس کے ساتھ تعلقات میں سردمہری کا خاتمہ شامل ہے، جو کہ کسی دور میں سوویت یونین کا حصہ رہ چکے ہیں۔

ہلری کلنٹن 2013ء میں اپنے عہدے سے سبک دوش ہو جائیں گی۔ امریکی صدر براک اوباما اُن کے جانشین کو نامزد کریں گے۔ ممکنہ امیدواروں میں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوزن رائیس اور سینیٹر اور ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق صدارتی امیدوار، جان کیری شامل ہیں۔
XS
SM
MD
LG