رسائی کے لنکس

افغانستان سے فوجی انخلا پر امریکی سیاسی حلقوں کے تحفظات


افغانستان سے فوجی انخلا پر امریکی سیاسی حلقوں کے تحفظات

افغانستان سے فوجی انخلا پر امریکی سیاسی حلقوں کے تحفظات

امریکی وزیرِ خاجہ ہلری کلنٹن نے جمعرات کو امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات کو بتایا کہ اگلے سال موسم گرما تک 33 ہزار امریکی فوجیوں کو افغانستان سے نکالنا صدر اوباما کے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا ، تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس فیصلے سے امریکی مفادات متاثر نہیں ہوں گے۔ امریکہ میں وہ ناقدین جو افغان جنگ کو امریکی معیشت پر بوجھ قرار دیتے ہیں، صدر اوباما کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب بعض امریکی حلقے صدر کے اس فیصلے کو فوجی کمانڈروں کے مشوروں سے متضاد قرار دیتے ہوئے اسے افغانستان کی صورتِ حال سے نمٹنے کے ایک ایسے سمجھوتے کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس کے امریکہ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

امریکہ کے فوجی کمانڈر یہ چاہتے تھے کہ افغانستان سے امریکی افواج کی ایک مخصوص تعداد کو نکالا جائے اور بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن ان کی رائے سے متفق تھیں۔ لیکن سینیٹ میں سماعت کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ اس سال کے آخر تک دس ہزار اور اگلے سال گرمیوں تک مزید 23 ہزار فوجیوں کو نکالنے کی صدر اوباما کی حکمتِ عملی کی مکمل حمایت کرتی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ بات آپ کو حیران نہیں کرے گی کہ اس بارے میں بہت سی آراء ہے کہ کیا کیا جانا چاہیے اور کیا نہیں۔ مگر میرا خیال ہے کہ صدر کا فیصلہ درست ہے۔ انہوں نے ایک ایسی تشویش کا جواب دیا ہے جو نہ صرف کانگریس بلکہ امریکی عوام میں بھی پائی جاتی ہے۔ اور وہ یہ کہ یہ امریکہ کے لیے ایک بہت لمبی جنگ ہے۔

سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات نے ہلری کلنٹن سے کہا کہ انہوں نے 2001ءمیں افغانستان پر حملہ کرنے کے فیصلے کی حمایت کی تھی مگر اب امریکی بجٹ خسارے کو کم کرنے اور امریکہ کے دیگر خارجہ مفادات کو دیکھتے ہوئے ان کی سوچ مختلف ہے۔

ری پبلکن سینٹر رچرڈ لوگر کمیٹی کے رکن ہیں۔ان کا کہناہے کہ اوباما انتظامیہ کے رکن یہ کہہ چکے ہیں کہ مستقبل میں امریکہ پراگرکوئی دہشت گرد حملہ ہوا تو وہ یمن سے ہوگا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ القاعدہ کی موجودگی پاکستان میں افغانستان سے زیادہ ہے۔ ہم افغانستان میں دہشت گردی کے عالمی خطرے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر ہمیں پاکستان، یمن، صومالیہ اور شمالی افریقہ پر پھر سے توجہ دینی چاہیے۔

ہلری کلنٹن نے کمیٹی کو بتایا کہ امریکی صدر کا منصوبہ افغان فوج کو اپنی سیکیورٹی سنبھالنے کے قابل بنائے گا اور سیاسی مفاہمت کے لیے راہ ہموار کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ مفاہمت کے سلسلے کی حمایت کے لیے افغانستان بھر میں امریکہ کے کئی سطحوں پر تعلقات ہیں۔جس میں ہم بہت محدود پیمانے پر طالبان سے بھی رابطے کیے ہیں۔ یہ کوئی خوشگوار بات نہیں ہے لیکن ضروری ہے۔

امریکی سیاستدان صدر اوباما کے فیصلے پر منقسم نظر آتے ہیں۔امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر جان بنیر کہتے ہیں کہ ہم اپنے مقاصد کے حصول کے لیے جو طریقہ اپنا رہے ہیں ، میں ان کے بارے میں محتاط لیکن پرامید ہوں۔

جبکہ صدر کی اپنی پارٹی کے اراکین کے کچھ خدشات ہیں۔سابق اسپیکر ننسی پیلوسی کہتی ہیں کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اس سلسلے کو جلد اپنے اختتام تک پہنچتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔

ہلری کلنٹن نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ کاجنگی مشن طے شدہ وقت کے مطابق 2014ءتک ختم ہو جائے گا۔ لیکن نیٹو افواج وہاں موجود رہیں گی۔ جس کی تفصیلات پر مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG