رسائی کے لنکس

پاکستان دہشت گردی کے خلاف کارروائی تیز کرے


ہلری کلنٹن اپنے بھارتی ہم منصب کےہمراہ

ہلری کلنٹن اپنے بھارتی ہم منصب کےہمراہ

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کے انسداد کے لیے کوششیں تیز کرے۔

منگل کو نئی دہلی میں اپنے بھارتی ہم منصف ایس ایم کرشنا کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں اُنھوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ حکومتِ پاکستان اس سلسلے میں مزید اقدامات کرے۔

’’اس کو یہ بات یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ اس کی سرزمین کسی بھی ملک اور خود پاکستان پر دہشت گردانہ حملوں کے لیے استعمال نا ہو کیوں کہ انتہائی تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ یہاں موجود دہشت گرد 30 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔‘‘

امریکہ اور اس کے اتحادی طویل عرصے سے یہ الزام عائد کرتے آئے ہیں کہ عسکریت پسندوں، خصوصاً طالبان کے حقانی نیٹ ورک نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اپنے ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں جن کو افغانستان میں نیٹو اور مقامی سکیورٹی فورسز کے علاوہ اہم غیر ملکی اہداف پر مہلک حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

بھارتی وزیرِ خارجہ ایس ایم کرشنا نے مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’کابل میں ہونے والے حالیہ حملے (افغانستان کے) پڑوس میں موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کی ضرورت کو اُجاگر کرتے ہیں اور پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف مزید سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جن میں ممبئی حملوں کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانا بھی شامل ہے۔‘‘

ہلری کلنٹن نے ایک روز قبل بھی پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ وہ کالعدم انتہاپسند تنظیم لشکر طیبہ کے بانی رہنما حافظ محمد سعید کے خلاف موثر کارروائی کرنے سے گریزاں ہے۔

حافظ سعید (فائل فوٹو)

حافظ سعید (فائل فوٹو)

امریکہ نے حال ہی میں حافظ سعید کے دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے سے متعلق معلومات کی فراہمی پر ایک کروڑ ڈالر تک نقد انعام کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کا موقف ہے کہ اگر بھارت یا امریکہ کے پاس حافظ سعید سے متعلق کوئی ٹھوس شواہد موجود ہیں تو وہ اسے فراہم کیے جائیں تاکہ ملک کی آزاد عدلیہ میں ان کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکے۔

بھارت حافظ سعید پر نومبر 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کرتا ہے، جن میں 166 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG