رسائی کے لنکس

دونوں امیدواروں نے واضح فرق سے کامیابی حاصل کی۔ ابتدائی جائزوں کے مطابق ان دونوں کو اپنے قریب ترین حریف کی نسبت 20 فیصد زیادہ ووٹ ملے۔

ریپبلکن پارٹی کے امیدور ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک پارٹی کی ہلری کلنٹن نے منگل کو اپنی اپنی جماعت کے پرائمری انتخابات جیت لیے ہیں جس سے نومبر میں متوقع صدارتی انتخاب کے لیے نامزدگی کی دوڑ میں ان کی برتری کو تقویت حاصل ہوئی ہے۔

دونوں امیدواروں نے واضح فرق سے کامیابی حاصل کی۔ ابتدائی جائزوں کے مطابق ان دونوں کو اپنے قریب ترین حریف کی نسبت 20 فیصد زیادہ ووٹ ملے۔

تاہم ریاست یوٹاہ میں نتائج کی صورتحال غیر واضح ہے جہاں بڑی تعداد میں مورمن فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں۔ الیکشن سے پہلے کیے گئے جائزوں میں ٹیڈ کروز کو وہاں برتری حاصل تھی مگر انہیں تمام ڈیلیگیس کی حمایت حاصل کرنے کے لیے نصف سے زائد ووٹ حاصل کرنا ہوں گے۔ بصورت دیگر ووٹوں کی تعداد کے لحاظ سے ڈیلیگیٹس کو امیدواروں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔

ابتدائی جائزوں کے مطابق سابق وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کا یوٹاہ اور آئیڈاہو میں اپنے حریف برنی سینڈرز کے ساتھ سخت مقابلہ ہوا۔

ادھر ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں ٹیڈ کروز اور جان کاسیچ یوٹاہ میں ٹرمپ کو ریپبلکن پارٹی کے چار سالہ کنونشن سے قبل ہی صدارتی نامزدگی کے لیے درکار 1,237 ڈیلیگیٹس کی حمایت حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کی بجائے وہ چاہتے ہیں کہ کنونشن میں کھلی رائے شماری کرائی جائے۔

2012 کے صدارتی انتخابات کے لیے ریپبلکن پارٹی کے نامزد امیدوار مٹ رومنی نے اعلان کیا تھا کہ وہ منگل کو ہونے والے انتخابات میں ٹیڈ کروز کو ووٹ دیں گے اور دوسروں کو بھی یہی کرنے کی ترغیب دی کیونکہ ان کے بقول ٹرمپ کو روکنے کا یہی ایک راستہ ہے۔

XS
SM
MD
LG