رسائی کے لنکس

امریکہ کی عالمی قیادت بدستور ناگزیر ہے: ہلری کلنٹن


ہلری کلنٹن نے اعلان کیا کہ امریکہ کی عالمی قیادت بدستور ناگزیر ہے اور امریکہ کو بہر صورت نئی صدی میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ چاہے اس کی صورت اور انداز نیا ہی کیوں نہ ہو۔

واشنگٹن میں خارجہ امور کی کونسل سے ہلری کلنٹن کا خطاب ، اوباما انتظامیہ کی ڈیڑھ سال کی کارکردگی میں خارجہ پالیسی کے بارے میں پروگریس رپورٹ کی طرح تھا۔ انہوں نے کہا کہ روایتی اتحادیوں کی تعمیر نو اور بش انتظامیہ کی محض فوجی قوت پر انحصار کے برعکس کثیر جہتی رابطوں کے نتائج نظر آنے لگے ہیں۔

ہلری کلنٹن نے اعلان کیا کہ امریکہ کی عالمی قیادت بدستور ناگزیر ہے اور امریکہ کو بہر صورت نئی صدی میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ چاہے اس کی صورت اور انداز نیا ہی کیوں نہ ہو۔

لیکن سوال و جواب کے دوران مز کلنٹن نے یہ بھی تسلیم کیا کہ امریکہ کی قومی سلامتی اور عالمی اثرورسوخ کو قرضے کے اس بوجھ سے خطرہ ہے جس کے لیے انہوں نے بش دور میں ٹیکس کٹوتیوں اور افغانستان اور عراق کی جنگ میں قرضے پر حاصل کیے جانے والے فنڈز کے استعمال کو ذمہ دار ٹہرایا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے ہمارے اپنے مفادات میں کی جانے والی کارروائی کو نقصان پہنچتا ہے اور اس سے ہم پر دباؤ آتا ہے اور ممکن ہے کہ کبھی یہ دباؤ ہمارے لیے بہتر نہ ہو۔ پھر یہ بین الاقوامی سطح پر کمزوری کا پیغام دیتا ہے۔ میرے لیے یہ بے حد تکلیف دہ امر ہے کہ ہم نہ صرف اپنی منزل کا تعین کرنے کی صلاحیت کھورہے ہیں بلکہ اس مقام کو بھی گنوارہے ہیں جو مؤثر اقتصادی ڈھانچے سے حاصل ہواہے اور جس کی وجہ سے برسوں سے امریکی اقدار اور مفادات کو قوت ملتی رہی ہے۔

وزیر خارجہ کلنٹن نے اپنی انتظامیہ کی پالیسی کی کامیابیوں میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان براہ راست امن مذاکرات کو بھی شامل کیا جس کے لیے وہ امریکی قیادت میں فلسطینی اتھارٹی کی سیکیورٹی افواج کو مؤثر طورپر تشکیل دینے کا ذکر بھی کرتی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی قیادت نے ایران کے جوہری پروگرام کے تناظر میں ایران پر سخت ترین اور جامع ترین پابندیاں عائد کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران کو اقتصادی سطح پر اثرات محسوس ہونا شروع ہوگئے ہیں اور امید ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں کوئی مذاکراتی حل ممکن ہوگا۔

اس خطاب میں کلنٹن نے 11 ستمبر کی برسی پر قرآن کو نذر آتش کرنے کے حوالے سے فلوریڈا کے عیسائی پادری کے تنازع پر بھی بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ پادری حب الوطنی کے تحت اپنے منصوبے پر دوبارہ غورکرے گا ۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ اپنے منصوبے پر عمل کرتا ہے تو یہ اقدام امریکیوں کی غالب اکثریت کے نظریات کا عکاس نہیں ہوگا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ ا مر افسوس ناک ہے کہ فلوریڈا کے ایک پادری ، جن کے چرچ سے وابستہ لوگوں کی تعداد 50 سے زیادہ نہیں ہوگی، اس نوعیت کا اشتعال انگیز اور توہین آمیز منصوبہ بنا سکتے ہیں اور دنیا بھر کی توجہ حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ وہ دنیا نہیں جس میں ہم رہتے ہیں ۔ یہ کسی طور بھی امریکہ یا امریکی عوام یا امریکی حکومت یا امریکہ کی مذہبی اور سیاسی قیادت کی نمائندگی نہیں کرتا۔

مز کلنٹن نے کہا کہ میڈیا کے ایک نئے دور میں جو کوئی بلاگ یا آئی فون رکھتا ہے، کوئی بھی ایسا اشتعال انگیز بیان جاری کرسکتا ہے، جسےعالمی سطح پر توجہ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ایک قوم کی حیثیت سے پہنچانے جانے کے خواہاں ہیں نہ کہ قرآن کے بارے میں دیئے گئے اشتعالی بیان جیسے واقعے سے اپنی شناخت چاہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG