رسائی کے لنکس

خفیہ سفارتی دستاویزات کا افشا عالمی برادری پر حملہ ہے، کلنٹن


امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن واشنگٹن میں وکی لیکس کے حالیہ اجراء کے بارے میں صحافیوں سے بات کررہی ہیں۔ واشنگٹن، 29 نومبر، 2010

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن واشنگٹن میں وکی لیکس کے حالیہ اجراء کے بارے میں صحافیوں سے بات کررہی ہیں۔ واشنگٹن، 29 نومبر، 2010

امریکہ نے وکی لیکس کی جانب سے تین لاکھ خفیہ امریکی سفارتی دستاویزات انٹرنیٹ پر جاری کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اپنے مفادات پر حملہ قرار دیا ہے۔

پیر کے روز واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران امریکی سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن نے وکی لیکس کی جانب سے خفیہ دستاویزات کی اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے اس عمل کو امریکہ کے خارجہ امور سے جڑے مفادات اور عالمی برادری پر حملہ قرار دیا۔

کلنٹن کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے خفیہ دستاویزات کی چوری میں ملوث افراد کی نشاندہی اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کے سدِباب کیلے "جارحانہ اقدامات" اٹھائے جارہے ہیں۔

امریکی سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ خفیہ دستاویزات کے اجراء سے کئی انسانوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دستاویزات کی تشہیر سے نہ صرف امریکہ کی قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے ہیں بلکہ مشترکہ مسائل کے حل کیلیے امریکہ کے دیگر ممالک کے ساتھ اشتراکِ عمل کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ وہ واضح کرنا چاہتی ہیں کہ امریکی خارجہ پالیسی جاری کی گئیں خفیہ دستاویزات جیسی رپورٹوں کی روشنی میں تشکیل نہیں دی جاتی ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی پالیسیاں عوام کے سامنے عیاں ہیں۔

دریں اثناء وہائٹ ہائوس کے ترجمان رابرٹ گبس نے خفیہ سفارتی دستاویزات کی چوری اور ان کے اجراء میں ملوث افراد کو مجرم قرار دیا ہے۔ جبکہ اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کاکہنا ہے کہ دستاویزات کے غیر متعلقہ ہاتھوں میں پہنچنے کے معاملےکی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

وکی لیکس کی جانب سے جاری کی گئی دستاویزات عالمی رہنمائوں، شخصیات، واقعات اور ملکوں کے متعلق بے لاگ آراء اور تجزیوں پر مشتمل ان تین لاکھ سے زائد سفارتی کیبلز پر مشتمل ہیں جن کی ترسیل دنیا بھر میں موجود امریکی سفارت کاروں اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے درمیان مختلف اوقات میں کی گئی۔

وکی لیکس کی جانب رواں سال کے آغاز میں افغان اور عراق جنگ سے متعلق چار لاکھ کے لگ بھگ خفیہ امریکی فوجی دستاویزات بھی جاری کی گئی تھیں۔ تاہم ویب سائٹس کی جانب سے ان خفیہ دستاویزات کے حصول کے ذرائع کبھی ظاہر نہیں کیے گئے۔

XS
SM
MD
LG