رسائی کے لنکس

ہلری کلنٹن بطور سفارت کار

  • اسکاٹ اسٹرنز

سفارتکاری کے دوران ہلری کلنٹن کو تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ جیسا کہ شام کے حوالے سے ان پر یہ تنقید کی جاتی رہی کہ انہوں نے صدر بشار الاسد کے مخالفین کی مدد کے لیے زیادہ اقدامات نہیں کیے۔

’’امریکہ کی سابق وزیر ِ خارجہ ہلری کلنٹن جو حال ہی میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئی ہیں، کا شمار دنیا کی کامیاب ترین خواتین میں کیا جاتا ہے‘‘۔ ایسا کہنا ہے گیلپ آرگنائزیشن کا، جو عوامی رائے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جائزے مرتب کرتی ہے۔

ہلری کلنٹن نے بطور امریکی وزیر ِ خارجہ امریکہ کے تعلقات افغانستان اور عراق جیسے ممالک کے ساتھ بہتر بنانے میں کردار ادا کیا جو جنگوں کے باعث متاثر ہوئے تھے۔ لیکن ہلری کہتی ہیں کہ ان کی زندگی کا مقصد خواتین کو ان کی زندگیوں کا مختار بنانا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’ یہ ایک بے وقوفانہ سوچ ہے کہ آپ اپنی آبادی کے نصف حصے سے دوسرے درجے کے شہری کی طرح کا برتاؤ رکھ کر اپنی معیشت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ بہت ساری جگہوں پر خواتین کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے۔ انہیں بہت کم یا نہ ہونے کے برابر حقوق حاصل ہیں، ان پر تشدد کیا جاتا ہے اور ان کی زندگیوں کی قدر نہیں کی جاتی۔‘‘

واشنگٹن میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم کی سربراہ سارہ مارگن کہتی ہیں کہ ہلری کلنٹن نے خارجہ پالیسی میں خواتین کے حقوق کو اولیت دی۔ ان کے الفاظ میں، ’’ان کا شہری حقوق کے گروپوں سے ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ خارجہ پالیسی اب محض حکومت سے حکومت کے تعلقات کی سطح پر نہیں ہوگی۔ اس میں زندگی کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے گروپوں کو شامل کیا جائے گا۔‘‘

سب سہارا افریقہ میں عالمی امور سے متعلق ایک تھنک ٹینک سے وابستہ ماہر جینیفر کک کہتی ہیں کہ ہلری کلنٹن نے کانگو میں خواتین پر تشدد کے خلاف آواز اٹھائی۔ وہ کہتی ہیں، ’’کینیا ہو یا پھر سینیگال، انہوں نے افریقی ممالک میں خواتین کے حقوق کے لیے سفارتی سطح پر آواز اٹھائی۔‘‘

لیکن سفارتکاری کے دوران ہلری کلنٹن کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ جیسا کہ شام کے حوالے سے ان پر یہ تنقید کی جاتی رہی کہ انہوں نے صدر بشار الاسد کے مخالفین کی مدد کے لیے زیادہ اقدامات نہیں کیے۔ دوسری طرف لیبیا میں امریکی سفارتخانے پر ہونے والے حملے کے بعد وہاں پر سیکورٹی کے ناقص انتظامات کے حوالے سے بھی انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ گذشتہ برس لیبیا میں امریکی سفارتخانے میں ہونے والے اس حملے میں چار امریکی ہلاک ہوئے تھے۔

ہلری کلنٹن کا اس بارے میں کہنا تھا، ’’یقینا بن غازی میں امریکی سفارتخانے میں ہونے والے جانی نقصان کا مجھے بہت زیادہ دکھ ہے۔ اور میں پوری کوشش کر رہی ہوں کہ ہم ایسے اقدامات کریں کہ مستقبل میں اس نوعیت کا کوئی واقعہ نہ پیش آئے۔‘‘

واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک سے منسلک ماہر ملو انوسنٹ کہتی ہیں کہ اگر ہلری کلنٹن دوبارہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ کرتی ہیں تو سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں ان کی کارکردگی ان کی مددگار ثابت ہوگی۔ ان کے الفاظ میں، ’’یقینا ہم جیسے لوگ جو خارجہ پالیسی کا بہت باریکی سے جائزہ لیتے ہیں، ان کے کام میں شاید کچھ نقص نکال سکتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر امریکی صرف ان کی مجموعی کارکردگی پر نظر ڈالیں گے، جو مثالی تھی اور یقینا 2016 کے صدارتی انتخابات میں ان کی مدد کرے گی۔‘‘

ہلری کلنٹن 2008 کے صدارتی انتخابات میں اپنی پارٹی کی طرف سے نامزدگی حاصل نہیں کر سکی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی وہ اس بارے میں کچھ بھی نہیں سوچ رہیں، ’’یہ میرا فیصلہ ہوگا کہ مجھے اپنے مستقبل میں کیا کرنا ہے۔ ابھی میں اس بارے میں کچھ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ لیکن میں نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر کی خواتین کے لیے اعلیٰ ترین عہدوں کے لیے مقابلہ کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے کوشش جاری رکھوں گی۔‘‘
XS
SM
MD
LG