رسائی کے لنکس

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ ایک برس کے دوران، امریکہ میں کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کے مقابلے میں، قدرتی گیس سے پیدا کی جانے والی بجلی کی مقدار کہیں زیادہ ہوگی

شمالی کیرولائنا کے وسط میں دریائے یاڈکن کے کنارے پر ’بک کمبائنڈ سائکل اسٹیشن‘ 620 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے تین ٹربائنز کے چلنے کی وجہ سے اس کے قریب اتنا شور ہوتا ہے کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔

اس سے کچھ ہی فاصلے پر ایک بلند عمارت ہے جس کی چھت پر نصف درجن چمنیاں اسے اور بھی اونچا بنا دیتی ہیں۔ کچھ سال پہلے تک دن رات ان میں سے دھواں نکلتا تھا جو بند ہوگیا ہے۔ کچھ کوے اب اس عمارت کے گرد منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ یہ پرانا بجلی گھر ہے جہاں کوئلے سے بجلی پیدا کی جاتی تھی۔ اس کے گرد وسیع و عریض میدان پر بجلی کے کھمبے، تاریں اور دوسرے آلات اب بھی موجود ہیں، مگر کوئلے کے ڈھیر اور کوئلہ لانے والی ریل گاڑیوں کے آثار نظر نہیں آتے۔

شمالی کیرولائنا کے شہر، سالسبری کے نزدیک یہ دونوں بجلی گھر امریکہ کی توانائی کی بڑی کمپنی ’ڈیوک انرجی‘ کی ملکیت ہیں۔

’بک کمبائنڈ سائکل اسٹیشن‘ ایک جدید پلانٹ ہے جس نے پانچ سال پہلے کام شروع کیا تھا۔ اس میں تین ٹرنائن ہیں جو قدرتی گیس اور بھاپ سے چلتے ہیں۔

امریکہ میں توانائی کے صاف ذرائع کی بڑھتی ہوئی مانگ اور کاربن ڈائی آکسائڈ کی سطح میں کمی لانے کے لئے سخت قوائد و ضوابط کی وجہ سے ’ڈیوک انرجی‘ اور توانائی کی دوسری کمپنیوں نے کوئلے پر انحصار کم کر دیا ہے۔

’بک کمبائنڈ سائکل اسٹیشن‘ کے سنیئیر انجنیئر، بل ولسن کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ برسوں میں ڈیوک نے اپنے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے تقریباًَ نصف پلانٹس بند کر دیے ہیں اور ان کی جگہ قدرتی گیس سے چلنے والے بجلی گھر تعمیر کر دئیے ہیں جیسا کہ ’کمبائنڈ سائکل اسٹیشن‘۔ ولسن نے ’وائس آف امریکہ‘ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’قدرتی گیس کی موجودہ قیمت کی وجہ سے یہ بہت ارزاں ہے۔ اگر، میگاواٹ کے حساب سے دیکھا جائے تو پلانٹ کو کوئلے کی بجائے گیس سے چلانا زیادہ سستا پڑتا ہے‘‘ ۔

امریکہ میں کئی عشروں تک زیادہ تر بجلی کوئلے ہی سے پیدا کی جاتی رہی ہے۔ مگر امریکی ادارے، ’انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن‘ کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ برس کے دوران کوئلے اور قدرتی گیس سے پیدا کی جانے والی بجلی کی شرح یکساں رہی، جو 33 فی صد ہے۔

یہ تبدیلی باقی ملک میں بھی نظر آ رہی ہے۔

اس سال جولائی میں سالسبری کے شمال مغرب میں، تقریباً 200 میل دور کچھ ٹرک اور بلڈوزر ورجنیا کی رسل کائونٹی میں ’کلنچ ریور پلانٹ‘ سے کوئلہ دوسری جگہ منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔ امریکی کمپنی، ’امریکن الیکٹرک پاور‘ کا یہ پلانٹ کوئلے سے چلتا تھا اور اس میں705 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تھی۔

اس سال کے شروع میں، 58 سال پرانے بجلی گھر کو ایک نئی زندگی ملی جب اس کے دو یونٹس کو کوئلے کی بجائے گیس سے چلانے کی ٹیکنالوجی نصب کر دی گئی۔ پلانٹ کے مینیجر، رِکی چیفن نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ نئے یونٹس نہ صرف آلودگی سے پاک ہیں، بلکہ زیادہ مؤثر بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’آپ کو کوئلے سے نبٹنا نہیں پڑتا۔ آپ کو ڈھیر سے کوئلہ پلانٹ کے اندر منتقل کرنا نہیں پڑتا۔ اب ہمیں بہت کم آلات کی ضرورت ہے۔ اسی لئے پلانٹ کو چلانے کے لئے انتہائی کم افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔

نیا پلانٹ اب484 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

توانائی کے ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ میں آئندہ ایک برس میں قدرتی گیس سے پیدا کی جانے والی بجلی کی شرح کوئلے سے پیدا کی جانے والی بجلی سے بڑھ جائے گی۔

’ڈیوک انرجی‘ آئندہ چند عشروں میں امریکہ بھر میں کوئلے سے چلنے والے اپنے زیادہ تر بجلی گھر بند کر دے گی۔

توانائی کی پیداوار میں اس تبدیلی کی وجہ سے افرادی قوت میں بڑی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر، جب ’امریکن الیکٹرک پاور‘ نے اپنے پلانٹ کو قدرتی گیس پر منتقل کیا تو اسے چلانے کے لئے صرف 46 افراد درکار ہوں گے، جب یہ کوئلے سے چلتا تھا، تب وہاں 182 افراد ملازم تھے۔

’نیشنل سولر جابز سینسز‘ کے اعداد و شمار کے مطابق، سن 2015ء میں شمسی توانائی کے شعبے میں ملازمتوں میں 20 فی صد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ڈیوک انرجی، شمالی کیرولائنا کی یونین کائونٹ میں منرو قصبے کے قریب تقریباً 400 ایکڑ پر مشتمل ایک شمسی توانائی کا فارم تعمیر کر رہی ہے، جس پر تقریباً پانچ سو افراد کام کر رہے ہیں۔ اس رقبے پر کچھ سال پہلے تک سویابین اور مکئی کی فصلیں کاشت کی جاتی تھیں۔ آئندہ برس کے شروع میں جب یہ سولر فارم مکمل ہو جائے گا تو اس پر نصب چھ لاکھ تریسٹھ ہزار سے زائد سولر پینل ساٹھ میگاواٹ بجلی پیدا کریں گے، جو تقریباً ساٹھ ہزار گھروں کے لئے کافی ہوگی۔ ریاست شمالی کیرولائنا میں یہ ڈیوک انرجی کا تیسرا بڑا سولر فارم ہوگا۔

ڈیوک انرجی کی ترجمان، ٹیمی مگی نے بتایا ہے کہ’’ ہمارے ایسے صارفین ہیں جو آلودگی سے پاک اور توانائی کے متبادل ذرائع کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اور ہم ایسی پالیسیاں اپنائے ہوئے ہیں جو انہیں پورا کر رہی ہیں‘‘۔

انہوں نے بتایا کہ پورے ملک میں ’ڈیوک انرجی‘ کے شمسی توانائی کے 50 سولر فارمز کام کر رہے ہیں جب کہ19 مقامات پر ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے فارمز بھی کام کر رہے ہیں، جب کہ ایک فارم ایک سال کے اندر کام شروع کردے گا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG