رسائی کے لنکس

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کافی کا استعمال ہائی بلڈ پریشر، اسٹروک، دل کی بیماریوں کے کم خطرے کے ساتھ منسلک ہے۔

کافی پینے کے شوقین افراد کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ انھیں دن میں تین سے چار کپ کافی پینے کے لیے ایک نیا بہانہ مل گیا ہے کیونکہ نئی تحقیق میں کافی کے استعمال سے شوگر کی بیماری لاحق ہونے کا کم خطرہ ظاہر ہوا ہے۔

حالیہ سائنسی ثبوت سے ظاہر ہوتا ہے کہ دن میں تین سے چار بار کافی کا استعمال ذیابیطس ٹائپ ٹو کے ممکنہ کم خطرے کے ساتھ منسلک ہے۔

تاہم تحقیق سے پتا چلا ہے کہ کیفین کے مقابلے میں کافی میں شامل کیمیائی مرکبات ذیابیطس کی روک تھام میں مدد کر سکتے ہیں۔

امریکی تحقیق کاروں نے تحقیق میں کافی کے استعمال سے جسم پر پڑنے والے مثبت اثرات کو مزید اجاگر کیا ہے اور کافی میں شامل دو مرکبات کی نشاندہی کی ہےجن سے یہ صحت کے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

سائنس دانوں نے کہا کہ نتائج نے ہمیں حیران نہیں کیا ہے بلکہ نتائج واضح تھے یعنی ہمیں اعتدال پسند کافی کے استعمال اور ذیابیطس کے کم خطرے کے درمیان ایک تعلق ملا ہے۔

رپورٹ میں کافی کے استعمال کو ذیابیطس کے انسداد کے طور پر دیکھا گیا ہے جبکہ کافی پینے کو عام طور پر تمباکو نوشی جیسی غیر صحت مندانہ عادات کے طور پر دیکھا جاتا ہے مزید برآں اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کافی کا استعمال ہائی بلڈ پریشر، اسٹروک، دل کی بیماریوں کے کم خطرے کے ساتھ منسلک ہے۔

جرنل آف 'نیچرل پراڈکٹس' نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے کہا کہ یہ نتائج کسی دن ذیابیطس کی روک تھام اور اس بیماری کے علاج کے لیے نئی ادویات بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔

امریکن کیمیکل سوسائٹی کی طرف سے منعقدہ مطالعے میں ذیابیطس کو آغاز میں روکنے میں کافی کو مددگار ظاہر کیا گیا ہے۔

کیفین کو ذیابیطس کی روک تھام کے لیے ذمہ دار سمجھا جاتا تھا لیکن نئے مطالعے سے ظاہر ہوا ہے کہ کافی گلوکوز اور انسولین پر مختصر مدت کے لیے اثر دکھاتی ہے۔

کافی میں شامل کونسے کیمیائی مرکبات ذیابیطس کی روک تھام کے لیے ذمہ دار ہو سکتے ہیں اس کی تحقیقات کے لیے پروفیسر سورن گریگرسن اور ان کے ساتھی محققین نے لیبارٹری میں چوہوں پر تحقیق کی ہے۔

محققین نے تجربہ گاہ میں چوہے کے خلیات میں کافی کے مختلف مرکبات کے اثرات پر جانچ پڑتال کی ہے انھوں نے دیکھا کہ گلوکوز شامل کرنے سے کیفیسٹو اور کیفیک ایسڈ نامی مرکبات نے انسولین کی پیداوار میں اضافہ کیا تھا۔

محققین کو یہ بھی پتا چلا کہ کیفیسٹو سے پٹھوں کے خلیات میں گلوکوز کا اضافہ ہوا۔

انھوں نے کہا کہ کیفیسٹو کا دوہرا فائدہ اسے ذیابیطس ٹائپ ٹو کی روک تھام اور علاج کے لیے ایک اچھا عنصر ثابت کرتا ہے۔

ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں میں انسولین ہارمون سے مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے جبکہ یہ ہارمون کھانے میں سے گلوکوز کو توانائی میں تبدیل کرنے میں مدد کرتا ہے نتیجتاً اس مزاحمت پر قابو پانے کے لیے لبلبہ زیادہ انسولین کی پیداوار کرتا ہے جو کہ کافی نہیں پڑتی ہے جس کی وجہ سے خون میں گلوکوز کی اعلی سطح صحت کے دیگر مسائل مثلاً اندھا پن اور اعصاب کے نقصان جیسے مسائل کا سبب بنتی ہے۔

اسی طرح کئی جینیاتی اور طرز زندگی کے عوامل کو بھی ذیابیطس ٹائپ 2 کی ترقی سے منسلک کیا جاتا ہے۔

اس سے قبل ایک مطالعے میں دن میں تین سے چار کپ کافی پینے کو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے 25 فیصد کم خطرے کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG