رسائی کے لنکس

مسافر ٹرینوں کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 21 ہوگئی ہے جبکہ 65 افراد زخمی ہیں۔

ریلوے کے وفاقی وزیر سعد رفیق نے کہا ہے کہ کراچی ٹرین کا حادثہ انسانی غلطی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

کراچی میں جمعرات کی صبح سات بج کر آٹھ منٹ پر ہونے والے مسافر ٹرینوں کے حادثے میں مرنے والوں کی تعداد 21ہوگئی ہے جبکہ 65افراد زخمی ہیں۔ زیادہ تر زخمیوں کو کراچی کے جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زیر علاج ہیں ۔

وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق زخمیوں کی عیادت کے لئے جمعرات کی شام کراچی پہنچے۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’’اب تک جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان لگ رہا ہے کہ لانڈھی ٹرین حادثہ انسانی غلطی ہے۔ انسانی غلطی ان ملکوں میں بھی ہوجاتی ہے جو ہم سے 150 سال آگے اور نہایت ترقی یافتہ ہیں۔‘‘

وفاقی وزیرکا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ٹرین کا ہر مسافر انشورڈ ہوتا ہے ،حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کیلئے 15 ،15 لاکھ اور زخمیوں کو ساڑھے 3 لاکھ روپے فی کس دیئے جائیں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ حادثے کے فوری بعد اس کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا تھا۔ تاہم اس بارے میں تفصیلی رپورٹ 8 دن میں پیش کردی جائے گی اور ذمےداروں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔‘

ڈی سی او ریلوے ناصر نذیرنے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ حادثہ کراچی کے علاقے لانڈھی میں جمعہ گوٹھ اسٹیشن پر اس وقت پیش آیا جب اسٹیشن پر پہلے سے کھڑی فرید ایکسپریس کو عقب سے آنے والی تیز رفتار زکریا ایکسپریس نے زور دار ٹکر ماری۔ یہ تصادم اتنا زور دار تھا کہ دور دراز علاقوں تک اس کی آواز سنی گئی۔

تصادم کے نتیجے میں فرید ایکسپریس کی 3 بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ زکریا ایکسپریس کے انجن کو نقصان پہنچا۔ ریسکیو اہلکاروں نے ڈبے کاٹ کاٹ کر مسافروں کو باہر نکالا۔

ڈائریکٹر شعبہ حادثات جنا ح اسپتال ڈاکٹر سیمی جمالی نے میڈیا کو بتایا کہ زیر علاج زخمیوں کی تعداد 65 ہے جن میں 11 بچے بھی شامل ہیں۔ زیادہ ترمریضوں کو ہڈیوں پر اور کچھ کو سرپر چوٹیں آئی ہیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق ٹرین حادثہ زکریا ایکسپریس کے ڈرائیور کی غفلت کا نتیجہ ہےجس نے سگنل کو نظر انداز کیا ہے۔

ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ آف پاکستان ریلوے سندھ نثار احمد میمن کے مطابق ٹرین حادثہ زکریا ایکسپریس کے ڈرائیور کی غلطی سےہوا۔ کراچی اورحیدرآباد میں ریلوے کا آٹو لاکنگ سسٹم لگا ہوا ہے، اگرسگنل خراب ہو تو اس کی لائٹ خودبخودسرخ ہوجاتی ہے۔ سگنل ٹھیک کام کر رہا تھا، فرید ایکسپریس کے ڈرائیور نےسگنل دیکھا ہے۔

وفاقی وزیر ریلوےخواجہ سعد رفیق نے ٹرین حادثے کی تحقیقات کے لئے فیڈرل انسپکٹر آف ریلویز کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے جو جمعہ سے ہی اپنا کام شروع کردے گی۔

صدرمملکت ممنون حسین اور وزیراعظم نوازشریف نے کراچی ٹرین حادثے پر افسوس دکھ کا اظہار کیا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعرات کو ہی جناح اسپتال کا دورہ کیا ،زخمیوں کی عیادت کی اور لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

بلاول بھٹو نے اس موقع پر میڈیا سے مختصر بات چیت میں کہا کہ سعد رفیق جوابدہ ہیں کہ حادثے کا ذمہ دار کون ہے۔ حادثے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے ۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ سندھ سے سفارش کریں گے کہ انتقال کرجانے والے افراد اور زخمیوں کو معاوضہ اور پلاٹ فراہم کیے جائیں ۔

XS
SM
MD
LG