رسائی کے لنکس

مشہور ادیب گارشیا مارکیز انتقال کرگئے


فائل

فائل

مارکیز کا شمار لاطینی امریکہ سے تعلق رکھنے والے مقبول ترین مصنفین میں ہوتا تھا اور انہیں جدید ادب میں 'میجک ریئل ازم' کا بانی قرار دیا جاتا تھا۔

کولمبیا سے تعلق رکھنے والے 'نوبیل' انعام یافتہ ادیب اور مصنف گیبریل گارشیا مارکیز انتقال کرگئے ہیں۔ ان کی عمر 87 برس تھی۔

مارکیز کے اہلِ خانہ کے مطابق ان کا انتقال جمعرات کو میکسیکو سٹی میں ان کی رہائش گاہ پر ہوا۔ مارکیز گزشتہ ہفتے ہی اسپتال سے گھر منتقل ہوئے تھے جہاں انہیں نمونیے کے باعث داخل کرایا گیا تھا۔

کولمبیا کے صدر جوان مینوئل نے بھی مارکیز کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ملک کا عظیم نقصان قرار دیا ہے۔

مارکیز کا شمار لاطینی امریکہ سے تعلق رکھنے والے مقبول ترین مصنفین میں ہوتا تھا اور انہیں جدید ادب میں 'میجک ریئل ازم' کا بانی قرار دیا جاتا تھا۔

مارکیز 6 مارچ 1927ء کو کولمبیا میں پیدا ہوئے تھے لیکن وہ گزشتہ تین دہائیوں سے میکسیکو میں مقیم تھے۔

گزشتہ صدی کے وسط میں صحافی کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کرنے والے گارشیا مارکیز نے اپنے ابتدائی برسوں میں سیکڑوں کہانیاں، مضامین اور مختصر ناول تحریر کیے۔

تاہم 1967ء میں شائع ہونے والے ان کے ناول 'ون ہنڈریڈ ایئرز آف سولی ٹیوڈ' نے انہیں دنیا کے مقبول ترین مصنفین اور ناول نگاروں کی صف میں لاکھڑا کیا۔ اس ناول کی دنیا بھر میں تین کروڑ سے زائد جلدیں فروخت ہوچکی ہیں۔

ان کے دیگر مشہور ناولوں میں 'آٹم آف پیٹری آرک'، 'لو ان دی ٹائم آف کالرا' اور 'کرونیکل آف ا ڈیتھ فار ٹولڈ' شامل ہیں۔ گارشیا مارکیز کو 1982ء میں ادب کا 'نوبیل' انعام دیا گیا تھا۔

لاطینی امریکہ کے دیگر ہم عصر ادیبوں کی طرح گارشیا مارکیز نے بھی ایک سرگرم سیاسی زندگی گزاری اور کمیونزم کے عروج کے دور میں اس سے متاثر رہے۔

وہ کمیونسٹ انقلاب کے بعد کچھ عرصہ کیوبا میں بھی رہے تھے اور ان کا شمار فیڈل کاسترو کے قریبی دوستوں میں ہوتا تھا۔

کمیونسٹ گوریلوں کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کے الزام میں ان کے امریکہ میں داخلے پر 10 سال تک پابندی بھی عائد رہی تھی۔
XS
SM
MD
LG