رسائی کے لنکس

امریکی طالبہ نے کائی سے تیل پیدا کرنے کا طریقہ دریافت کرلیا

  • سوزین پریسٹو

سارہ وولز کائی سے تیل کشید کرکے اسے توانائی کے متبادل ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کا عزم رکھتی ہیں

ریاست کولوراڈو سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان طالبہ سارہ وولز اس برس انٹل کے زیر ِ اہتمام سالانہ ’سائنس ٹیلنٹ‘ کے پہلی انعام کی حقدار ٹھہریں۔ یوں سارہ وولز نے ایک لاکھ ڈالر کی انعامی رقم جیتی۔

سترہ سالہ طالبہ سارہ وولز کے ساتھ دیگر 39 نوجوان طالبعلم آخری راؤنڈ میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے اور ’فائنلسٹ‘ چنے گئے تھے۔ واشنگٹن میں منعقد ہونے والی تقریب سے چند دن پہلے ہی سارہ وولز نے اپنا پروجیکٹ نیشنل جیوگرافک سوسائٹی کے زیر ِاہتمام سائنسی نمائش میں لوگوں کے سامنے پیش کیا تھا۔

نوجوان طالبہ نے اس موقعے پر اپنے پروجیکٹ کے بنیادی خیال اور مستقبل کے حوالے سے اپنی تحقیقی منصوبہ بندی کے بارے میں تفصیلاً آگاہ کیا تھا۔ سارہ وولز کائی سے تیل کشید کرکے اسے توانائی کے متبادل ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کا عزم رکھتی ہیں۔

سارہ کہتی ہیں، ’میں ایک ایسا طریقہ وضع کرنا چاہتی ہوں جس میں کائی یا الجی کی پیداوار کو بڑھا کر اس سے تیل کشید کیا جا سکے۔ اس کے لیے میں ایک ایسا کیمیکل استعمال کر رہی ہوں جو اس کائی کو ختم کر دے گا جو تیل پیدا کرنے کے لائق نہیں۔‘

سارہ یہ تحقیق زیادہ تر اپنے گھر پر ہی کرتی ہیں۔ ان کے مطابق، ’میرے پاس مائیکروسکوپ اور دیگر سائنسی آلات گھر پر ہی موجود ہیں۔ مہلک کیمیکلز میں اپنے گھر کے تہہ خانے میں رکھتی ہوں۔‘

وینڈی ہاکنز ’انٹل فاؤنڈیشن‘ کے ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اس سائنسی مقابلے کی ابتداٴ 70 سال قبل ڈالی گئی تھی اور تب سے اب تک یہ مقابلہ سائنسی ٹیلنٹ کو دریافت کرنے اور مختلف شعبہ جات میں تحقیق کا ایک موٴثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

وینڈی ہاکنز کے الفاظ، ’ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ سائنس پڑھنے والے طالبعلموں کو فارمولے یاد کرنے اور چند چھوٹے موٹے تجربات کرنے کے علاوہ بھی کچھ کرنے کا موقع دیا جائے۔‘

ماہرین کہتے ہیں کہ یہ کہنا تو بہت مشکل ہے کہ یہ نوجوان سائنسدان اپنے اپنے شعبہ جات میں کتنا نام کمائیں گے اور کہاں تک ترقی حاصل کر سکیں گے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی میں ’انٹل سائنس ٹیلنٹ‘ کا مقابلہ جیتنے والے سات نوجوان سائنسدان مستقبل میں نوبیل انعام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
XS
SM
MD
LG