رسائی کے لنکس

فیلے روبوٹ کو روزیٹا نامی خلائی جہاز سے ستارے کی طرف چھوڑا گیا تھا جو سات گھنٹوں کی مسافت کے بعد دمدار ستارے کی سطح پر اترا تھا۔

یورپین اسپیس ایجنسی (ای ایس اے) کے روبوٹ کے دمداد ستارے پر اترنے کے بعد، اس کی وہاں موجودگی کے بارے میں بے یقینی پائی جا رہی ہے کیوں کہ روبوٹ کا دوبارہ سائنسدانوں سے رابطہ نہیں ہوا ہے۔

’ای ایس اے‘ کے عہدیدار کے مطابق ’فیلے‘ نامی تحقیقاتی روبوٹ بدھ کو معمول کے مطابق دمدار ستارے پر اتر گیا تھا لیکن اس کے وہاں پر جمے یا ٹکے رہنے کے لیے بنائے گئے ’ہارپونز‘ درست طور پر کام نہیں کرے سکے۔

فیلے روبوٹ کو روزیٹا نامی خلائی جہاز سے ’67 پی – چوریوموف جیراسیمینکو‘ نامی ستارے کی طرف چھوڑا گیا تھا جو سات گھنٹوں کی مسافت کے بعد دمدار ستارے کی سطح پر اترا تھا۔

عہدیداروں کے مطابق دمدار ستارے پر پہلی مرتبہ اترنے کے بعد روبوٹ اچھلا تھا۔

زمین سے چھ ارب کلو میٹر کے فاصلے پر خلائی روبوٹ کے اترنے کے بعد اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔

ستارے پر اترنے سے قبل روبوٹ نے اپنے بیس اسٹیشن پر تصاویر ارسال کی تھیں۔ ’ای ایس اے‘ کے عہدیدار نے کہا تھا کہ 10 سال کے طویل سفر کے روبوٹ کا ستارے پر اترنا ایک بڑا قدم ہے۔

اس کا مقصد نظام شمسی کے تشکیل سے متعلق اُن رازوں کا پتہ چلانا تھا جن سے اب تک پردہ نہیں اٹھ سکا ہے۔

جس دمدار ستارے پر فیلے اترا وہ لگ بھگ چار کلومیٹر چوڑا ہے اور اس پر جمے رہنے کے لیے روبوٹ کے ساتھ خصوصی ’ہارپونز‘ بنائے گئے تھے تاکہ وہ سطح پر گڑھ جائیں۔

XS
SM
MD
LG