رسائی کے لنکس

تجارت کا فروغ اہم ترجیح ہو گی: نامزد وزیر


نامزد وزیرتجارت ولبر راس

نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے محکمہ تجارت کے نامزد سربراہ نے کہا ہے کہ کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ آزاد تجارت کو تبدیل کرنا ان کے ایجنڈے میں سر فہرست ہے۔

ارب پتی سرمایہ کار ولبر راس جونئیر نے بدھ کو سینیٹ کی کامرس کمیٹی میں بات کرتے ہوئے چین کو دنیا کے بڑے ملکوں میں "سب سے تجارتی تحفظ " کرنے والا ملک قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ملک جو منصفانہ تجارت نہیں کرتے انہیں "سخت سزا " ملنی چاہیے۔

نامزد وزیر تجارت راس نے سینیٹروں کو بتایا کہ وہ تجارت کے خلاف نہیں ہیں لیکن وہ ایسی"معقول" تجارت کے حق میں ہیں جو امریکی کارکنوں اور کمپنیوں کے مفاد میں ہو۔

اگر ان کی نامزدگی کی توثیق ہو جاتی ہے تو وہ 47 ہزار اہلکاروں پر مشتمل محکمہ تجارت کی قیادت کریںگے۔ محمکہ تجارت موسم کی پیش گوئی کرنا، اعداد و شمار کو جمع کرنا، ان کا تجزیہ کرنے اور امریکہ میں مردم شماری کے علاوہ بھی کئی دیگر کاموں کو سرانجام دیتا ہے۔

راس کی ٹرمپ سے قریبی دوستی ہے اور متوقع طور پر وہ دیگر وزرائے تجارت کے مقاملے میں تجارتی معاملات میں ایک بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

کمیٹی کے سربراہ اور جنوبی ڈیکوٹا سے ریپبلکن سینیٹر جان تھیون نے کہا کہ راس اس عہدے کے لیے "تجارت، کاروبار اور شہری معاملات سے متعلق کئی دہائیوں کا تجربہ" رکھتے ہیں۔

راس کے حمایتی یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کوئلے اور ٹیکسٹائل کی صنعت میں کئی نوکریوں کو بچایا جب کہ ان کے نقادوں کا موقف ہے کہ نامزد وزیر تجارت نے کم اجرت والے ملکوں میں ملازمتوں کو منتقل کر کے کئی امریکی کارکنوں کی ملامتوں کو ختم کیا۔

مغربی ورجنیا میں ان کی زیر ملکیت ایک کوئلے کی کان میں 2006 میں 12 کارکنوں کی ہلاکت کے واقعہ پر تنقید کی گئی۔

راس نے ناکام کمپنیوں کو خرید کر ان کی مالیاتی ساکھ کو بہتر کرنے کے بعد انہیں منافع پر فروخت کر کے اپنے کاروبار کو وسعت دی۔ وہ ییل اور ہارورڈ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں تاہم وہ سرکاری انتظامی امور کا بہت کم تجربہ رکھتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG