رسائی کے لنکس

بیشتر پارلیمینٹیرین کا تعلیمی اسناد جمع کرانے سے گریز


 الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے 249 قانون سازوں کو رواں ماہ اسناد کی تصدیق سے متعلق خطوط لکھے تھے مگر کمیشن کے حکام کے مطابق ان میں بیشتر اراکین پارلیمان نے اس پر اب تک عمل نہیں کیا۔

الیکشن کمیشن کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ قانون سازوں نے اگر اپنی تعلیمی اسناد سے متعلق دستاویزات جمع نا کرائیں تو اُنھیں آئندہ عام انتخابات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کمیشن کے ایک اعلٰی عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اراکین پارلیمان کو ان کی تعلیمی اسناد کی تصدیق سے متعلق خط سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت بھیجا گیا ہے اور مقررہ معیاد کے اختتام پر کمیشن کے اجلاس میں اُن قانون سازوں کے خلاف ممکنہ کارروائی کا فیصلہ بھی کیا جائے گا جنہوں نے متعلقہ دستاویزات جمع نہیں کرائی ہوں گی۔

کمیشن کے ایڈیشنل سیکرٹری افضل خان نے پیر کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ آئندہ انتخابات میں اسناد سے متعلق امیدواروں کی اہلیت پر سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں اور الیکشن کمیشن بھی اس سلسلے میں ریٹرنگ افسران کو معلومات فراہم کرے گا۔

’’ان کے مخالفین یہ نکتہ اٹھا سکتے ہیں کہ انہوں نے حلفاً کہا تھا کہ وہ گریجوئیٹ ہیں مگر ایسا نہ تھا اور پھر ریٹرنگ افسر فیصلہ کرے گا۔‘‘

موجودہ پارلیمان نے رکن پارلیمنٹ کے لیے گریجوئیٹ یا بی اے کی تعلیم کی شرط ختم کر دی ہے مگر الیکشن قوانین کے تحت صرف صادق و امین شخص ہی قانون ساز بننے کا اہل ہو سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے 249 قانون سازوں کو رواں ماہ اسناد کی تصدیق سے متعلق خطوط لکھے تھے مگر کمیشن کے حکام کے مطابق ان میں بیشتر اراکین پارلیمان نے اس پر اب تک عمل نہیں کیا۔

کمیشن کے ایڈیشنل سیکرٹری کا کہنا تھا ’’یہ الیکشن کمیشن کی ضرورت نہیں، بلکہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو ان دستاویزات کی ضرورت ہے تاکہ وہ ان اراکین کی اسناد کی تصدیق کر سکے۔‘‘

حال ہی میں قومی اسمبلی میں الیکشن کمیشن کو اس وقت شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے حزب اختلاف کے قائد چوہدری نثار علی خان کو کمیشن کی جانب سے ایک چٹھی کے ذریعے ان کی میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی اسناد الیکشن کمیشن میں دو ہفتوں کے اندر جمع کرانے کا کہا گیا۔

انھوں نے ایوان میں اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے خط کو قانون سازوں کے لیے تضیحک آمیز قرار دیا۔ حکمران جماعت کے اراکین نے بھی اس خط کی مذمت کی۔

اخباری بیانات کے مطابق چوہدری نثار نے الیکشن کمیشن کے احکامات پر عمل درآمد سے انکار کیا تھا۔ تاہم مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ’’ضروری نہیں کہ اخبارات میں جو بیانات چھپتے ہیں وہ حرف بہ حرف صحیح ہوں۔ کئی مرتبہ کہا کچھ جاتا ہے اور چھپ کچھ جاتا ہے۔ ہمیں الیکشن کمیشن پر بھرپور اعتماد تھا اور ہے۔‘‘

پاکستان میں پہلی بار قومی اسمبلی کے پانچ سالہ مدت کے اختتام پر عام انتخابات مئی میں متوقع ہیں اور تمام سیاسی جماعتوں کے علاوہ، عدلیہ اور پاکستانی فوج کی طرف سے بھی اس میں کسی قسم کی ممکنہ تاخیر کی مخالفت کی گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG