رسائی کے لنکس

صحافیوں کے تحفظ کے لیے کمیشن کے قیام کا فیصلہ


کیٹی مارٹن وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کر ہی ہیں

کیٹی مارٹن وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کر ہی ہیں

وزیراعظم نے کہا کہ وہ پاکستان کو نا صرف مقامی بلکہ غیر ملکی صحافیوں کے لیے ایسا ملک بنانا چاہتے ہیں جہاں وہ اپنی صحافتی ذمہ داریاں با آسانی نبھا سکیں۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے ملک میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے ایک کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے۔

اُنھوں نے یہ بیان بدھ کو کیٹی مارٹن کی قیادت میں صحافیوں کے تحفظ کی بین الاقوامی تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ کے وفد سے ملاقات میں دیا۔

کیٹی مارٹن پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے آنجہانی مندوب رچرڈ ہالبروک کی بیوہ ہیں۔

وزیراعظم نے وفد سے ملاقات میں کہا کہ صحافی پاکستانی معاشرے کا متحرک جز ہیں اور اُنھیں فرائض کی انجام دہی کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اسی ضمن میں صحافیوں کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا جا رہا ہے جس میں اہم شخصیات اور سرکاری عہدیدار شامل ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کمیشن صحافیوں کے تحفظ کے لیے تجاویز حکومت کو دے گا۔

وزیراعظم نواز شریف نے وفد سے ملاقات میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کو نا صرف مقامی بلکہ غیر ملکی صحافیوں کے لیے بھی ایسا ملک بنایا جائے جہاں وہ اپنی صحافتی ذمہ داریاں با آسانی نبھا سکیں۔

اُنھوں نے کہا کہ کمیشن صحافیوں کے خلاف جرائم کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کو موثر بنانے کے بارے میں تجاویز بھی حکومت کو دے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی کہ صحافیوں کے قتل میں ملوث دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔



صحافیوں کی ایک نمائندہ تنظیم ’پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس‘ کے سابق صدر پرویز شوکت نے وزیراعظم کی طرف سے کمیشن کی تشکیل کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں صحافتی تنظیمیں طویل عرصے سے اس کا مطالبہ کر رہی تھیں۔

’’بہت حوصلہ افزا چیز ہے، دیکھنا ہے کہ وزیراعظم کے اس اعلان پر کب اور کتنی جلدی عمل درآمد ہوتا ہے۔۔۔ صحافیوں میں اُمید کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔‘‘

نیو یارک میں قائم صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس یعنی (سی پی جے) کے علاوہ مقامی تنظیمیں بھی یہ کہتی آئی ہیں کہ پاکستان میں اب بھی صحافت سے وابستہ افراد کے لیے بہت سے چیلنجز ہیں۔

حکام کے مطابق دہشت گردی نے جہاں معاشرے کے دیگر طبقوں کو متاثر کیا، اس کے اثرات سے صحافی بھی نا بچ سکے۔

صحافیوں کی مقامی نمائندہ تنظیمیں ملک کے شورش زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو ضروری تربیت فراہم کرنے کے مضوبوں پر زور دیتی آئی ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ ایسی تربیت کا مقصد خطرات سے بچتے ہوئے صحافیوں کو اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھانے کے لیے تیار کرنا ہے۔
XS
SM
MD
LG