رسائی کے لنکس

کامن ویلتھ گیمز: ناقص انتظامات کے باوجود بھارتی حکام پرعزم


پیر، 27 ستمبر کو کامن ویلتھ گیمز کے میسکاٹ شیرا کے پس منظر میں ایک بھارتی طالبہ اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کا کامن ویلتھ ولیج میں استقبال کررہی ہے۔

پیر، 27 ستمبر کو کامن ویلتھ گیمز کے میسکاٹ شیرا کے پس منظر میں ایک بھارتی طالبہ اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کا کامن ویلتھ ولیج میں استقبال کررہی ہے۔

بھارتی حکام نے امید ظاہر کی ہے دارالحکومت نئی دہلی میں اگلے ہفتے سے شروع ہونے والے کامن ویلتھ گیمز کی تیاریاں جلد مکمل کرلی جائیں گی۔

دہلی کی وزیرِ اعلیٰ شیلا ڈکشٹ نےپیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلے کیلیے تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں اور "حالات تیزی سے بہتری کی طرف گامزن ہیں"۔

گزشتہ کئی روز سے حکومتی اہلکاروں اور صفائی کے محکمے کے ذمہ داران کی توجہ کھلاڑیوں کی رہائش کیلیے بنائے گئے "ایتھلیٹس ویلج" پہ مرکوز ہے جہاں موجود صفائی کی ناقص صورتحال اور آلودہ ماحول کو کئی ممالک کے کھیلوں کے ذمہ داران سخت تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ پیر کے روز بھی سارا دن حکومتی اہلکاروں کی جانب سے کھلاڑیوں کی رہائش گاہوں کی صفائی اور ویلج کے زیریں حصوں میں جمع ہوجانے والے سیوریج کے پانی کی نکاسی کا انتظام ہنگامی بنیادوں پر جاری رہا۔

گو کہ بھارتی حکومت نے کھلاڑیوں کی رہائش کیلیے تعمیر کیے جانے والے اپارٹمنٹس کی آرائش و انتظام پر کثیر سرمایہ صرف کیا ہے تاہم اسے گزشتہ ہفتے اس وقت کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب مختلف ٹیموں کے ذمہ داران اور بین الاقوامی آفیشلز کے ایک دورے کے دوران رہائشی کمروں کی ابتر صورتحال سامنے آئی۔ حکام کے مطابق کھلاڑیوں کے کمروں اور غسل خانوں میں صفائی کا کوئی انتظام موجود نہیں تھا جبکہ رہائشی علاقے میں جگہ جگہ عمارتی ملبہ اور گندے پانی کے جوہڑ موجود تھے جس کی نکاسی کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق عمارتوں میں نصب لفٹس، الیکٹرک اور پلمبنگ کا کام بھی نقائص سے پر ہے۔

تاہم دہلی کی وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ انتظامی اہلکاروں کی موجودہ تمام تر افرادی قوت ویلج میں قائم کیے گئے کھلاڑیوں کے کمروں، عوامی مقامات، برآمدوں، راہداریوں اور سیڑھیوں کی صفائی کے کام میں دن رات مصروف ہے۔ ڈکشٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے تمام محکموں کو انتظامات مکمل بنانے کیلیے دگنا کام کرنے کی ہدایت جاری کی جاچکی ہے اور انہیں یقین ہے کہ تمام تیاریاں عالمی معیار کے مطابق جلد مکمل کرلی جائینگی۔

گزشتہ ہفتے بھارتی حکام نے کھلاڑیوں کی رہائش گاہوں کا انتظام پیر تک مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بعد ازاں انتظامات کی تکمیل میں ناکامی کے باعث حکام کی جانب سے ڈیڈلائن بد ھ تک بڑھا دی گئی۔ واضح رہے کہ کامن ویلتھ گیمز کی افتتاحی تقریب اتوار کو منعقدکی جائے گی۔

انتظامیہ کی جانب سے"گیمز ویلج" میں تعمیر کیے گئے آدھے سے زائد رہائشی اپارٹمنٹس مکمل کیے جانے کے بعد وہاں انگلینڈ، آسٹریلیا، کینیڈا، جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی اور آفیشلز کی منتقلی شروع کردی گئی ہے۔ تاہم کئی کھلاڑیوں کی جانب سے اب بھی رہائشی علاقے میں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔ پیر کے روز جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے ایک کھلاڑی نے اپنے کمرے سے سانپ برآمد ہونے کی شکایت بھی کی۔

سابقہ برطانوی نوآبادیات کے درمیان ہونے والے کھیلوں کے اس بین الاقوامی مقابلے میں شرکت کیلیے دنیا کے 71 ممالک سے سات ہزار سے زائد کھلاڑیوں کی ہندوستان آمد متوقع ہے۔ تاہم مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے 20 سے زائد چوٹی کے کھلاڑیوں نے گزشتہ ہفتے صفائی اور سیکیورٹی کے ناقص انتظامات کے باعث مقابلوں میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔

کھلاڑیوں کے رہائشی علاقے میں کیے جانے والے ناقص انتظامات کے باعث ہندوستانی حکومت کو دنیا بھر میں شرمندگی اٹھانا پڑی ہے۔ مختلف ممالک کے مندوبین اور ٹیموں کی جانب سے ویلج میں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات پہ اعتراض کرتے ہوئے آمد موخر کردی گئی ہے جبکہ ہندوستان پہنچنے والے کئی ممالک کے کھلاڑیوں نے ویلج میں رہائش اختیار کرنے سے انکار کرتے ہوئے مختلف ہوٹلوں میں قیام اختیار کیا ہواہے۔

تاہم شیلا ڈکشٹ سمیت کئی بھارتی حکام کھیلوں کے کامیابی سے انعقاد کے حوالے سے پرامید ہیں۔ پیر کے روز اپنی گفتگو میں نئی دہلی کی وزیرِاعلیٰ کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے تیاریوں کے ہر پہلو پر توجہ دی جارہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وقت کی کمی کے باوجود تمام تر انتظامات مکمل کرلیے جائینگے ۔

واضح رہے کہ ہندوستان کو کھیلوں کی میزبانی کا اعزاز 2003 میں عطا کیا گیا تھا۔ تاہم حکومت کی جانب مقابلوں کی باقاعدہ تیاریاں اور ان سے منسلک تعمیرات کا عمل 2008 میں شروع کیاگیا۔

XS
SM
MD
LG