رسائی کے لنکس

رپورٹ میں ماہرین نے کمرہ جماعت میں کثرت سے کمپیوٹر یا دیگر ٹیکنالوجی کے استعمال کو خراب امتحانی نتائج کے ساتھ منسلک کیا ہے۔

ایک بین الاقوامی مطالعہ کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ اسکولوں میں ٹیکنالوجی کا استعمال طالب علموں کی تعلیمی کارکردگی کو فروغ دینے میں ناکام رہا ہے۔

اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) نے منگل کو جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا کہ اسکولوں میں ٹیکنالوجی میں بھاری سرمایہ کاری سے سائنس اور ریاضی میں طلبہ کی کارکردگی بہتر نہیں ہوئی ہے۔

رپورٹ میں ماہرین نے کمرہ جماعت میں کثرت سے کمپیوٹر یا دیگر ٹیکنالوجی کے استعمال کو خراب امتحانی نتائج کے ساتھ منسلک کیا ہے۔

تنظیم او ای سی ڈی کی طرف سے دنیا بھر میں کیے جانے والے ایک سروے میں انٹرنیشنل ٹیسٹ مثلاً پیسا جو ستر سے زائد ممالک میں طلبہ کی ذہانت کی تشخیص کا امتحان ہے، کے نتائج پر ٹیکنالوجی کے اثرات کا مطالعہ کیا ہے۔

تنظیم کے ڈائریکٹر اینڈریاس شائکر نے کہا کہ تعلیم کے فروغ کے حوالے سے اسکولوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ بہت زیادہ توقعات وابستہ کی جاتی ہیں، لیکن نتائج سے واضح ہوا ہے کہ طالب علموں کی کامیابی پر ٹیکنالوجی کا منفی اثر تھا۔

انھوں نے کہا کہ اسکولوں میں طالب علموں کو ہائی ٹیک آلات فراہم کرنے پر زور دیا جاتا ہے جب کہ وسائل کو مطالعہ اور ریاضی پر خرچ کیا جانا چاہیئے۔

'کمپیوٹر اینڈ لرننگ' نامی مطالعہ میں انھوں نے لکھا کہ اگر دنیا کے ان تعلیمی نظاموں پر نظر ڈالی جائے جہاں مواصلات اور ٹیکنالوجی کے شعبہ میں بھاری سرمایہ کاری کی گئی ہے طلبہ کے امتحانی نتائج پر کوئی بہتری دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔

اس کے برعکس اگر دنیا کے بہترین تعلیمی کارکردگی دکھانے والے تعلیمی نظاموں جیسا کہ مشرقی ایشیا کے ممالک پر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ وہاں کمرہ جماعت میں کمپیوٹر کے استعمال میں بہت محتاط رہا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جن اسکولوں میں کلاس میں ٹیبلیٹ اور کمپیوٹر کا کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے وہاں طالب علموں کی امتحانی کارکردگی خراب تھی ان طلباء کے مقابلے میں جو اسکول میں اعتدال کے ساتھ کمپیوٹر استعمال کرتے تھے۔

انھوں نے رپورٹ میں لکھا کہ ٹیکنالوجی کا کثرت سے استعمال کرنے والے طلبہ ہوم ورک کے لیے انٹرنیٹ سے جوابات تیار کرتے ہیں اور تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ کوئی ایک ملک ایسا نہیں ہے، جہاں انٹرنیٹ کے زیادہ استعمال کے باعث طالب علموں کی اکثریت کے نتائج پر بہتری ظاہر ہوئی ہو۔

اسکولوں میں انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال کرنے والے سات ممالک میں سے تین ممالک آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور سویڈن کے طلبہ میں مطالعہ میں نمایاں کمی واقع ہوئی جب کہ اسپین، ناروے اور ڈنمارک میں نتائج جمود کا شکار تھے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے وہ شہر اور ملک جہاں کمپیوٹر کا استعمال کم ہے مثلاً جنوبی کوریا، شنگھائی، ہانگ کانگ اور جاپان ٹیسٹ میں اعلیٰ اسکور حاصل کرنے والے ممالک ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسکولوں میں کمپیوٹر کثرت سے استعمال کرنے والے ممالک میں سر فہرست آسٹریلیا ہے جہاں اوسطاً بچے کلاس میں 58 منٹ کمپیوٹر پر گزارتے ہیں اسی طرح دیگر ممالک میں ڈنمارک میں45 منٹ، یونان میں 42 منٹ سویڈن میں 38 منٹ اور اسپین میں 35 منٹ ہے۔

کمپیوٹر کا کم استعمال کرنے والے ممالک میں جنوبی کوریا اوسطاً 9 منٹ، ہانگ کانگ میں 11منٹ، شنگھائی میں دس منٹ، پولینڈ اور جاپان میں 13 منٹ بچے کمرہ جماعت میں کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہیں۔

نتائج کے مطابق ٹیکنالوجی نے براہ راست طالب علموں کے سیکھنے کو بہتر نہیں کیا تھا جب کہ رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے طلبہ کے درمیان سماجی و اقتصادی تقسیم کو کم نہیں کیا جا سکتا۔

XS
SM
MD
LG