رسائی کے لنکس

اطلاعات تک رسائی کیسے ممکن ہوئی: این ایس اے سربراہ


.

.

اپنے ادارے کے نگرانی کے پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے، الیگزینڈر نے کہا کہ اِس پروگرام کے نتیجے میں،گذشتہ چند برسوں کے دوران، امریکہ اور دوسرے ممالک میں درجنوں دہشت گرد سازشیں ناکام بنائی گئیں

امریکہ کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اُنھیں اِس بات پر ’گہری تشویش‘ ہے کہ ایک کانٹریکٹر جو معمولی سی تعلیم اور کام کا تجربہ رکھتا ہو، اُسے حکومت کے نگرانی کے پروگرام کی کلیدی تفاصیل تک رسائی کس طرح حاصل ہوئی اور پھر وہ دو اخبارات کو اِس سے متعلق اطلاعات کیسے ظاہر کر سکا۔

نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے ڈائریکٹر جنرل، کیتھ الیگزینڈر نے یہ بات بدھ کے روز کانگریس کے ایک پینل کے سامنےسماعت کے دوران بیانِ حلفی میں کہی۔

اُنھوں نے کہا کہ اُن کا ادارہ اِس بات کی چھان بین کر رہا ہے کہ ایڈروڈ سنوڈن کو کس نے اِس بات کا اختیار دیا کہ وہ ’این ایس اے‘ کی طرف سے ٹیلی فون کالز اور انٹرنیٹ کے پیغامات کی اطلاعات کو دیکھ سکے، باوجود اِس کے کہ وہ اسکول کے زمانے میں
کلاس سے غیر حاضری پر درسگاہ سے نکالا گیا اور جونئیر سطح کے کئی ایک کام کرتا رہا۔

اُن کے بقول، ’مجھے اِس پر بڑی تشویش ہے-- اُسے جو رسائی ملی اُس پر، اور جو طریقہ ہم نے اپنایا، اُس پر۔ یہ وہ چیزیں ہیں جسے میں دیکھوں گا اور درست کروں گا۔‘

تاہم، اپنے ادارے کے نگرانی کے پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے، الیگزینڈر نے کہا کہ اِس پروگرام کے نتیجے میں، گذشتہ چند برسوں کے دوران، امریکہ اور دوسرے ممالک میں درجنوں دہشت گرد سازشیں ناکام بنائی گئیں۔

الیگزینڈر کا بیانِ حلفی ایسے وقت سامنے آیا ہے جب انتیس سالہ سنوڈن نے ہانگ کانگ کےکسی نامعلوم مقام سے اخبار ’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘ کو بتایا کہ وہ چین کی سرزمین پر رہنے کے خواہشمند ہیں، جب کہ جرم کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے ممکنہ طور پر اُنھیں امریکہ کےحوالے کیا جاسکتا ہے۔

اُنھوں نے اِس اخبار کو بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہانگ کانگ کی ہی عدالتوں اور عوام سے رجوع کریں، کہ وہی اُن کی قسمت کا فیصلہ کریں۔
XS
SM
MD
LG