رسائی کے لنکس

قبائلی سیاسی اتحاد کے صدر سردار خان نے کہا پانچ سال کی بجائے آئندہ عام انتخابات سے قبل ہی قبائلی علاقوں کو صوبے میں ضم کیا جائے اور ان علاقوں کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اصلاحات اور اسے صوبہ خیبرپختونخواہ میں ضم کرنے سے متعلق وفاقی کابینہ کی منظور کا قبائلیوں کی طرف سے جہاں خیر مقدم کیا جا رہا ہے وہیں اس بارے میں بعض تحفظات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

رواں ہفتے ہی وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں ان اصلاحات کی منظور دی گئی تھی جس کے مطابق پانچ سال میں یہ عمل مکمل کر کے فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کر دیا جائے گا۔

قبائلی علاقوں میں مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ راہنماؤں اور سرگرم کارکنان کے سیاسی اتحاد نے اس فیصلے کا خیر مقدم تو کیا لیکن پانچ سال کی مدت اور اصلاحات میں فاٹا کے رواج ایکٹ سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا۔

اتحاد کے صدر سردار خان نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا پانچ سال کی بجائے آئندہ عام انتخابات سے قبل ہی قبائلی علاقے کو صوبے میں ضم کیا جائے اور ان علاقوں کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔

"ہم یہ چاہتے ہیں کہ رواج ایکٹ آئین پاکستان سے متصادم نہ ہو، وہ بنیادی شہری حقوق سے متصادم نہ ہو۔ 2018ء تک اصلاحات مکمل ہونی چاہیئں اور اس الیکشن میں فاٹا کو خیبرپختونخواہ اسمبلی میں نمائندگی دینی چاہیے اور فاٹا کا انضمام ہونا چاہیے۔"

قبائلی علاقوں کے مختلف رواجوں پر مبنی رواج ایکٹ کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اس بارے میں فیصلہ مقامی عمائدین کے ساتھ مل کر ہی کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے گزشتہ سال فاٹا میں اصلاحات کے لیے ایک کمیٹٰی تشکیل دی تھی جس نے ان علاقوں کے سرکردہ راہنماؤں سے مشاورت کے بعد سفارشات مرتب کی تھیں۔

لیکن مرکز میں حکومت کی حلیف جماعت جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ان سفارشات پر متفق نہیں ہیں اور اس کی مخالفت کرتے آ رہے ہیں۔

دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے وفاقی کابینہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا لیکن انھوں نے بھی اس عمل میں پانچ سال تک کے عرصے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر اس پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG