رسائی کے لنکس

کانگو میں جنگ بندی نہیں بغاوت کا خاتمہ چاہتے ہیں: وزیرِ اطلاعات


جمہوریہ کانگو کے وزیر اطلاعات لیمبرٹ مینڈے (فائل فوٹو)

جمہوریہ کانگو کے وزیر اطلاعات لیمبرٹ مینڈے (فائل فوٹو)

لیمبرٹ مینڈے نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ باغیوں کو ایسے اقدامات پر عمل درآمد کا یقین دلانا ہوگا جن کے تحت وہ اپنی تمام کاروائیوں کو ختم کریں نا کہ صرف جنگ بندی کی جائے۔

جمہوریہ کانگو کی حکومت نے باغی گروہ ایم 23 کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اس سے بغاوت کا سلسلہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

باغی جنگجوؤں کی اپنے آخری گڑھ سے بھی پسپائی کے بعد گروہ کے رہنما برٹرانڈ بیسموا نے اتوار کو کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے جنگ بندی چاہتے ہیں۔

کانگو کے وزیر اطلاعات لیمبرٹ مینڈے نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ باغیوں کو ایسے اقدامات پر عمل درآمد کا یقین دلانا ہوگا جن کے تحت وہ اپنی تمام کاروائیوں کو ختم کریں نا کہ صرف جنگ بندی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج کی حالیہ کامیابیوں کے بعد لڑائی آئندہ چند روز میں ختم ہو جائے گی۔

باغی جنگجوؤں میں وہ لوگ شامل ہیں جنھوں نے 2009ء کے امن معاہدے کے بعد حکومتی فوج میں شمولیت اختیار کی مگر برے سلوک کی شکایات کے بعد اس سے علیحدہ ہو گئے۔

باغیوں نے گزشتہ نومبر میں کانگو کے معدنیات سے مالا مال مشرقی حصے میں متعدد شہروں پر قبضہ کر لیا تھا۔

بیسموا کے مطابق اس کے ساتھی ’’تحفظ‘‘ کے لیے لڑ رہے ہیں۔

’’ہم جانتے ہیں کہ کانگو کے اس (مشرقی) حصے میں کئی گروہ، غیر ملکی گروہ لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔ انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ہم یہ مزید برداشت نہیں کر سکتے۔‘‘

اقوام متحدہ ملک میں قیام امن کے لیے فریقین پر زور دیتا آیا ہے کہ وہ امن معاہدے پر رضا مند ہو جائیں۔

تاہم گفت و شنید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ بات چیت کا عمل باغیوں کو عام معافی دینے کے معاملے پر عدم اتفاق کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔
XS
SM
MD
LG