رسائی کے لنکس

سی آئی اے چیف لیون پنیٹا کی بطور وزیر دفاع منظوری متوقع

  • سنڈی سپینگ
  • ندیم یعقوب

سی آئی اے چیف لیون پنیٹا کی بطور وزیر دفاع منظوری متوقع

سی آئی اے چیف لیون پنیٹا کی بطور وزیر دفاع منظوری متوقع

امریکی حساس ادارے سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا آئندہ ماہ سے وزیر دفاع کا عہدہ سنبھالیں گے۔ کانگرس میں خارجہ امور کی کمیٹی کے اراکین نے 72 سالہ پنیٹا کے نئے عہدے کے لئے منظوری سے پہلے ان سے کئی سوالات کئے ۔ نیا عہدہ سنبھالتے ہی انہیں جن چیلنجز کا سامناہو گا، ان میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا اور آئندہ بارہ سال میں پینٹاگون کے بجٹ میں تقریباً چار سو ارب ڈالر کمی کے لئے لائحہ عمل تیار کر نا ہے۔

امریکی کانگرس میں خارجہ امور کی کمیٹی میں شامل ڈیموکریٹک اور ری پبلیکن پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے لیون پنیٹا کی نئے عہدے پر تعیناتی کے بارے میں ہونے والی سماعت کے آغاز میں ہی واضح کر دیا ان کی اس عہدے کے لئے منظوری تقریباً یقینی ہے۔ مگر انہوں نے یاد دلایا کہ وزیر دفاع کی حیثیت سے انہیں کئی چیلنجز کا سامنا بھی ہوگا۔

سماعت کے دوران افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے معاملے کو سب سے زیادہ توجہ دی گئی۔صدر اوباما نے جولائی سے امریکی افواج کو افغانستان سے نکالنے کے آغاز کا وعدہ کیا ہے جو 2014ءمیں پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ سینیٹ میں آرمڈ سروس کمیٹی کے چیرمین کارل لیون صدر اوباما پر زور دے رہے ہیں کہ وہ موجودہ سال کے آخر تک افغانستان سے 15ہزار فوجی واپس بلائیں ۔

مگر کمیٹی کے کچھ ایسے اراکین بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ فوجوں کو فوری نکالنے سے پچھلے دس سال میں حاصل کی گئی کامیابی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

فوجوں کے انخلا ءکے کم یا اچھی خاصی تعداد کے معاملے پر لیون پنیٹا نے کوئی واضح موقف اختیار کرنے سے گریز کیا اور صر ف یہ کہا کہ وہ صدر کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں کہ فوجوں کی واپسی وہاں کے حالات پر منحصرہے۔

لیبیا کی صورتحال کے بارے میں پنیٹا نے کہا کہ وہاں عسکری اور اقتصادی دباؤ کچھ کام کرتا دکھائی دے رہا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر نیٹو اور اس کے اتحادی لبیا کے رہنما معمر قدافی پر دباؤ جاری رکھتے ہیں تو وہ اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

صدر اوباما نے دفاعی اخراجات میں چارکھرب ڈالر کم کرنے کا اعلان کیا ہے مگر کچھ سینیٹر ز کا خیال ہے کہ موجودہ وقت میں اخراجات سے متعلق تحفظات مناسب نہیں اس لئے کہ امریکہ تین جنگوں میں ملوث ہے۔ پنیٹا نے اراکین کو یقین دلایا کہ ان کی اولین ذمہ داری امریکہ کا تحفظ ہوگا۔

ان کا کہناتھا کہ میں اپنے سرکاری عہدوں پر طویل تجربے کی بنا پر اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ ہمیں مضبوط قومی دفاع اور مالی ترجیحات میں سے کسی ایک کو چننے کی ضرورت نہیں ۔

لیون پنیٹا نے وزارت دفاع میں غیر ضروری اخراجات ختم کرنے کا آعادہ کیا اور کہا کہ ملک کا ذمہ ہے کہ وہ اپنے فوجیوں اور ان کے خاندانوں کو بہترین ممکنہ طبی اور دوسری سہولتیں فراہم کرے۔

XS
SM
MD
LG