رسائی کے لنکس

ڈان بیئر نے کہا ہے کہ ’’امریکہ کی بنیاد مذہبی آزادی پر رکھی گئی تھی۔ تھامس جیفرسن نے 1777ءمیں امریکی آئین میں مذہبی آزادی کو شامل کیا تھا اور لکھا تھا کہ خدا نے ہر انسان کو آزاد پیدا کیا ہے اور ہر انسان کا حق ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہے اس کی پیروی کرے‘‘

مسلمانوں کے خلاف جاری سیاسی بیان بازی اور امریکی امیگریشن کے نظام میں مذہب کی بنا پر فیصلہ کرنے کے حوالے سے سیاسی بیانات کے خلاف امریکی کانگریس میں منتخب نمائندوں کے ایک پینل نے ایوانِ نمائندگان میں ’فریڈم آف ریلیجن‘ یا آزادی مذہب کا بل پیش کیا ہے جو مہاجرین، تارکین وطن، پناہ گزینوں اور بین الاقوامی سیاحوں کو صرف ان کے مذہبی عقائد کو بنیاد بنا کر امریکہ میں داخلہ نہ دینے جیسے اقدامات کو روکے گا۔

یہ بل ریاست ورجینیا سے تعلق رکھنے والے کانگریس مین ڈان بیئر نے دیگر ارکان کے ساتھ مل کر پیش کیا ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ کی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے ڈان بیئر نے کہا کہ ’’مسلمانوں کے خلاف جاری سیاسی بیان بازی نفرت انگیز اور نقصان دہ ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’امریکہ کی بنیاد مذہبی آزادی پر رکھی گئی تھی۔ تھامس جیفرسن نے 1777ءمیں امریکی آئین میں مذہبی آزادی کو شامل کیا تھا اور لکھا تھا کہ خدا نے ہر انسان کو آزاد پیدا کیا ہے اور ہر انسان کا حق ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہے اس کی پیروی کرے‘‘۔

اس لیے، انھوں نے مزید کہا کہ ’’جب ہم صدارتی امیدواروں کی زبان سے سنتے ہیں کہ مسلمانوں کو امریکہ داخل ہونے سے روک دیا جائے تو یہ ضروری ہے کہ ہم اس کے خلاف اکٹھے ہو کر کہیں کہ یہ درست نہیں ہے۔ اور اس بل کا مقصد یہ ہے کہ اسے امریکی قانون میں شامل کیا جائے کہ کسی فرد کے مذہبی عقیدے کو اس کے داخلے پر پابندی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ “

کانگریس مین بیئر نے کہا کہ امریکی مسلمانوں کو زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ امریکی آئین میں اختیارات کی تشریح واضح ہے۔ ’’اگر ٹرمپ صدر بن بھی جاتے ہیں تو کانگریس کی اجازت کے بغیر قوانین بنانے یا ان میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں۔ لیکن انہیں (مسلمانوں کو) ایک ایسے نمائندے کی باتوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیئے جو ملک کی دو بڑی پارٹیوں میں سے ایک کا صدارتی امیدوار بننے کا خواہاں ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’ٹرمپ کی حمایت کرنے والے ووٹر داعش اور لوگوں کے سر قلم کیے جانے کی ویڈیوز سے ڈرے ہوئے ہیں‘‘۔

بیئر نے مزید کہا کہ ’’ٹرمپ کے بیانات کا فائدہ صرف و صرف داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو ہو رہا ہے‘‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے لندن کے پہلے مسلمان میئر صادق خان کے بارے میں کہا ہے کہ وہ امریکہ آسکتے ہیں، جس کے جواب میں، صادق خان نے کہا تھا کہ یہ صرف ان کا نہیں 1.7 ارب مسلمانوں کا معاملہ ہے۔ اور داعش ٹرمپ کے بیانات کو استعمال کر کے مزید معصوم مسلمانوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔

اِس پر، کانگریس مین ڈان بیئر نے کہا کہ ’’یہ بے وقوفانہ بیان ہے کہ اگر آپ لندن کے میئر ہیں تو ہم آپ کو امریکہ آنے دیں گے اور اگر ایک عام آدمی ہیں تو امریکہ نہیں آ سکتے یہ یقیناً ایک بری پالیسی اور برا قانون ہوگا‘‘۔

آزادی مذہب کے اس بل کو 70 سے زائد ارکان کانگریس نے مل کر پیش کیا ہے۔

اس بل کو ’اے سی ایل یو‘، ایمنسٹی انٹرنینشل، کیئر، ’اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ‘ سمیت درجنوں مسلم، مسیحی اور یہودی تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔

XS
SM
MD
LG