رسائی کے لنکس

'مسلم انتہاپسندی' پر سماعت، اراکینِ کانگریس تقسیم


10 مارچ کو کانگریس میں مسلم انتہا پسندی پر سماعت کا منظر

10 مارچ کو کانگریس میں مسلم انتہا پسندی پر سماعت کا منظر

امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی نے امریکہ کی مسلمان آبادی میں انتہا پسندی کے رجحانات کا جائزہ لینے کیلیے متنازعہ قرار دی جانے والی سماعت مکمل کرلی ۔

جمعرات کے روز ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی برائے ہوم لینڈ سیکیورٹی کے تحت کی جانے والی ہیئرنگ یا سماعت کے دوران کمیٹی کے ارکان موضوع کے حوالے سے واضح طور پر تقسیم نظر آئے اور کئی ارکان نے سماعت کے حوالے سے اپنے تحفظات کا برملا اظہار کیا۔

کمیٹی کے چیئرمین اور ریاست نیویارک سے منتخب ہونے والے ری پبلکن رکنِ کانگریس پیٹر کنگ نے سماعت کا آغاز کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نوجوان امریکی مسلمان القاعدہ کا خاص نشانہ ہیں جو ان کے بقول انہیں رجعت پسند بنانے کی کوششیں کررہی ہے۔

کنگ نے، جو سماعت کے اصل محرک بھی ہیں، اپنے ناقدین کی اس رائے کو مسترد کیا کہ اس سماعت میں مسلمانوں کو نامناسب طریقے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے برعکس ان کا اصرار تھا کہ ان کی تجویز کردہ ہیئرنگ میں "امریکی کلچر کے خلاف اور رجعت پسندانہ " کوئی بات نہیں۔

کنگ کا اپنے افتتاحی بیان میں کہنا تھا کہ ہیئرنگ پہ ہونے والی تنقید یا تو "حقائق سے منہ موڑنے کے مترادف ہے" یا ان کے بقول اس کا تعلق "غصہ اور ہسٹیریا" جیسے ردِ عمل سے ہے۔

تاہم ہیئرنگ کے دوران کمیٹی کے اہم ڈیمو کریٹ رکن بینی تھامپسن نے سماعت سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔

تھامپسن کا کہنا تھا کہ اس سماعت کے ذریعے ان لوگوں کو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مدد ملے گی جو ان کے بقول "خودکش حملہ آوروں کی ایک نئی نسل کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں"۔

سماعت کے دوران امریکی کانگریس کے پہلے مسلمان منتخب رکن کیتھ ایلے سن نے بھی چیئرمین پیٹر کنگ کے خیالات سے شدید اختلاف کیا.

کمیٹی کے سامنے بیانِ حلفی دیتے ہوئے منی سوٹا سے منتخب ہونے والے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس نے جذباتی انداز میں کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ اس سماعت کے ذریعے چند لوگوں کے انفرادی اعمال کا الزام امریکہ کی پوری مسلمان کمیونٹی کے سر تھوپنے جیسے رویہ کی حوصلہ افزائی کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ایلے سن نے اس طرزِ فکر کو "غلط اور ناکارہ " قرار دیا۔

کمیٹی نے سماعت کے پہلے دن انتہاپسندی کا شکار ہونے والے دو مسلم نوجوانوں کے رشتہ داروں کے بیانات بھی سنے۔

ایک صومالی نژاد مسلمان امریکی نے کمیٹی کو اپنے بھتیجے کے بارے میں بریف کیا جو اس کے بقول صومالیہ کے مسلمان انتہا پسندوں میں شامل ہوگیا تھا اور بعد ازاں ایک لڑائی میں مارا گیا۔

کمیٹی کے روبرو پیش ہونے والے دوسرے شخص کا کہنا تھا کہ اس کے بیٹے نے کالج کی تعلیم کے دوران اسلام قبول کرنے کے بعد یمن کا سفر اختیار کیا تھا اور بعد ازاں آرکنساس میں واقع امریکی فوجیوں کے ایک بھرتی مرکز پر فائرنگ کرکے ایک فوجی کو ہلاک کرنے کے جرم میں ملوث ہونے پر اس کی گرفتاری عمل میں آئی۔

کمیٹی کے سامنے امریکی ریاست ایریزونا سے تعلق رکھنے والے مسلمان ڈاکٹر زہدی جاسر بھی پیش ہوئے۔ اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے ڈاکٹر یاسر کا کہنا تھا کہ انتہاپسندانہ رجحانات وقت کے ساتھ ساتھ پنپتے ہیں اور ان کے خاتمے کیلیے بنیادی وجوہات کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

سماعت کے دوران کمیٹی کے کئی ارکان نے امریکی مسلمانوں کی اہم نمائندہ تنظیم "کونسل آف امریکن-اسلامک ریلیشنز (کیئر)" کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

کیئر کو سماعت کے دوران اپنا بیان ریکارڈ کرانے کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔ تاہم تنظیم نے اپنے ایک اعلامیہ میں کمیٹی کے چیئرمین پیٹر کنگ کے اس بیان پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس میں کنگ نے الزام عائد کیا تھا کہ کیئر جیسی تنظیموں کا کنٹرول انتہا پسندوں کے ہاتھ میں ہے جو ان کے بقول امریکی مسلمانوں کو سیکیورٹی اداروں کے ساتھ عدم تعاون پر اکساتے ہیں۔

سماعت کے دوران لاس اینجلس کائونٹی کے شیرف لیروئے بیکا بھی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ اپنے بیانِ حلفی میں بیکا نے اپنے علاقے کی مسلم تنظیموں بشمول کیئر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ اشتراک اور تعاون کو سراہا ۔

اپنے بیان میں لاس اینجلس کائونٹی کے شیرف نے امید ظاہر کی کہ امریکہ کی مسلمان آبادی میں انتہا پسندی کے رجحانات کے موضوع پر ہونے والی اس سماعت کے ذریعے انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی۔

امریکی کانگریس کی مختلف کمیٹیاں اس سے قبل بھی داخلی دہشت گردی اور انتہاپسند مسلم تنظیموں کی جانب سے لاحق خطرات جیسے موضوعات پر سماعتوں کا اہتمام کرچکی ہیں۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں سے متعلق دہشت گردی کے خطرات کو اس طرح موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔

جمعرات کے روز شروع ہونے والے ہیئرنگ کو "امریکہ کی مسلمان آبادی میں انتہا پسندی کا رجحان اور اس پر کمیونٹی کا ردِ عمل" کا عنوان دیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG