رسائی کے لنکس

بوسٹن دھماکے: 'ایف بی آئی' کے کردار پر سماعت کا اعلان


امریکی سینیٹ کی 'انٹیلی جنس کمیٹی' کی سربراہ ڈیانے فینسٹن نے کہا ہے کہ ان کی کمیٹی منگل کو ایک نجی سماعت کرے گی

امریکی سینیٹرز نے بوسٹن دھماکوں کے مبینہ ملزم پر شک ہونے کے باوجود اس کے خلاف کوئی کاروائی نہ کرنے پر 'ایف بی آئی' حکام سے پوچھ گچھ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق چند برس قبل روسی حکام نے 'ایف بی آئی' کو 26 سالہ تیمر لان سارنیو کے مبینہ طور پر شدت پسندی میں ملوث ہونے سے متعلق مطلع کیا تھا لیکن امریکی ادارے نے پوچھ گچھ کے باوجود سارنیو پر "ممکنہ دہشت گرد" ہونے کا شبہ ظاہر نہیں کیا تھا۔

تیمرلان گزشتہ ہفتے بوسٹن پولیس کےساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا تھا جب کہ اس کے چھوٹے بھائی جوہر سارنیو کو پولیس نے کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد زخمی حالت میں حراست میں لے لیا تھا۔

دونوں بھائیوں پر گزشتہ ہفتے 'بوسٹن میراتھن' کے موقع پر ہونے والے بم دھماکوں کی الزام ہے جس میں تین افراد ہلاک اور 170 زخمی ہوگئے تھے۔

گزشتہ سال تیمرلان نے چھ ماہ اپنے آبائی علاقے اور روس کے صوبوں چیچنیا اور داغستان میں بھی گزارے تھے لیکن 'ایف بی آئی' کی 'واچ لسٹ' میں ہونے اور اس طویل دورے کے باوجود اامریکی تحقیقاتی ادارے نے اس پر دہشت گردی کا شبہ ظاہر نہیں کیا تھا جس پر کئی حلقے اسے 'ایف بی آئی' کی نااہلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی سینیٹ کی 'انٹیلی جنس کمیٹی' کی سربراہ ڈیانے فینسٹن نے کہا ہے کہ ان کی کمیٹی منگل کو ایک نجی سماعت کرے گی جس میں اس معاملے میں 'ایف بی آئی' کی مبینہ نااہلی پر ایجنسی کے حکام سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔

سیکیورٹی حکام بوسٹن دھماکوں اور اب تک کی تحقیقات پر منگل کو امریکی ایوانِ نمائندگان کو بھی بریفنگ دیں گے جب کہ اس نوعیت کی ایک بریفنگ اسی ہفتے کے اختتام پر امریکی سینیٹ کو بھی دی جائے گی۔

خیال رہے کہ حکام کی تحویل میں موجود تیمرلان کے چھوٹے بھائی اور شریک ملزم جوہر سارنیو پر پیر کو ابتدائی فردِ جرم عائد کردی گئی تھی جس میں اس پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

الزام ثابت ہونے کی صورت میں جوہر کو سزائے موت ہوسکتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جوہر کو کئی گولیاں لگی ہیں اور وہ ایک مقامی اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ مقدمی کی سماعت کرنے والی عدالت میں ملزم کی ابتدائی پیشی کے لیے 30 مئی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں مشتبہ بھائیوں کے دہشت گردوں کے کسی بڑے نیٹ ورک سے منسلک ہونے کے شواہد نہیں ملے ہیں اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ انہوں نے بم دھماکوں کی کاروائی انفرادی طور پر انجام دی تھی۔

تفتیشی حکام نے تاحال ان بم دھماکوں کے پیچھے کارفرما محرک کی نشاندہی نہیں کی ہے۔

دونوں ملزمان کا تعلق روس کے علاقے چیچنیا سے ہے جہاں سے وہ 10 برس قبل ہجرت کرکے امریکہ منتقل ہوئے تھے۔
XS
SM
MD
LG