رسائی کے لنکس

پاکستانی اور امریکی عوام کی سوچ ایک ہے: کانگریس مین گریگوری میکس


Cafe DC

Cafe DC

وہ کہتے ہیں کہ، ’مجھے پاکستان جا کر یہ احساس ہوا کہ انسان کی جلد کی رنگت مختلف ہو سکتی ہے، ان کا مذہب اور عقائد مختلف ہو سکتےہیں، زبان مختلف ہو سکتی ہے، لیکن دل سب کے ایک جیسے ہوتے ہیں‘

امریکہ کو مواقعوں کی سر زمین کہاجاتا ہےجہاں ہر کوئی اپنا مقدر آزما سکتا ہے اور جن میں صلاحیتں موجود ہوں، ان پر ترقی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اس کی ایک واضح مثال کانگریس مین گریگوری میکس ہیں۔

سیاہ فام میکس ایک انتہائی غریب پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا بچپن نیویارک کی ایک پس ماندہ آبادی میں بسر ہوا۔ میکس کے والد نیویارک کی ایک عمارت میں صفائی کاکام کرتے تھے۔ وہ کام پر جاتے ہوئے اپنے بیٹے کو بھی اکثر اوقات ساتھ لے جاتے تھے، تاکہ اسے یہ دکھاسکیں کہ وہ کس قسم کی نوکری کررہے ہیں۔

وہ ہمیشہ میکس کو یہ احساس دلاتے کہ اگر اس نے پڑھائی دل نہ لگایا تو اسے بھی عمر بھر اسی نوعیت کا کوئی چھوٹا موٹا کام کرنا پڑے گا۔ وہ اپنے بیٹے سے کہا کرتے تھے کہ معاشرے میں اپنا مقام بنانے اور آگے بڑھنے کے لیے تعلیم حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ میکس نے اپنے والد کی نصیحت پر عمل کیا۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک وکیل کے طور پر کیا ، جج بنے اور پھر الیکشن میں حصہ لے کر کانگریس مین بن گئے۔

انٹرویو کی مکمل وڈیو سننے کے لیے کلک کیجئیے:

http://www.urduvoa.com/media/video/1631101.html?z=0&zp=1


وائس آف امریکہ کے ٹیلی ویژن شو ’کیفے ڈی سی‘ میں اردو سروس کے سربراہ فیض رحمان سے اپنے انٹرویو میں کانگریس مین میکس نے بتایا انہیں پاکستان سمیت مختلف ممالک میں جانے کا موقع ملا ہے اور ان کا پاکستان کا سفر اس لحاظ سے یادگارہے کہ وہاں انہوں نے لوگوں کا ایک اور روپ دیکھا۔

پاکستان میں اپنے تجربات اور مشاہدات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں جس ملک میں بھی جاتا ہوں، وہاں عام لوگوں سے ملنے اور ان کے خیالات جاننے کی کوشش کرتا ہوں۔ کیونکہ وہی اس ملک کی حقیقی آواز ہوتی ہے۔ پاکستان میں عام لوگوں سے مل کر مجھے اس تصویر کا دوسرا اور اصل چہرہ نظر آیا اور مجھے احساس ہوا کہ امریکیوں اور پاکستانیوں کے خیالات بالکل ایک جیسے ہیں۔ دونوں چاہتے ہیں کہ دنیا میں امن قائم ہوتاکہ ان کے بچوں کو تعلیم، صحت اور جدید دور کی سہولتوں تک رسائی حاصل ہو۔ انہیں روزگار کے بہتر مواقع مل سکیں اور وہ اپنا مستقبل سنوار سکیں۔ ان کا کہناتھا کہ مجھے پاکستان میں جاکر یہ احساس ہوا کہ انسان کی جلد کی رنگت مختلف ہوسکتی ہے۔ ان کا مذہب اور عقائد مختلف ہوسکتے ہیں۔ زبان مختلف ہوسکتی ہے ، لیکن دل سب کے ایک جیسے ہوتے ہیں۔امن اور ترقی سے محبت کرنے والے۔

کانگریس مین نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا اکثر اوقات وہاں سے انتہا پسند لوگوں کو چن کر، جن کی تعداد انتہائی کم ہے، پاکستان کے چہرے کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور یہ بھول جاتا ہے کہ انتہاپسند دنیا کے کس ملک اور معاشرے میں نہیں ہوتے۔پاکستانیوں کی اکثریت دنیا کے دوسرے ممالک کے عوام کی طرح سوچتی اور اپنی زندگی گذارتی ہے۔

آئندہ کے چند برس جنوبی ایشیا کے اس خطے کے لیے بڑے اہم ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے اپنے فوجیوں کے انخلا کی تیاری کررہے ہیں اوردوسری کئی طاقتیں علاقے میں اپنا سیاسی اور معاشی اثرورسوخ بڑھانے کی کوششیں بڑھا رہی ہیں۔جب کہ افغانستان کے اہم ترین ہمسائے پاکستان میں انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ خطے کی تبدیل ہوتی ہوئی صورت حال سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کانگریس مین میکس کا کہناتھا کہ انہیں توقع ہے پاکستان کے عوام اپنے ووٹ کے ذریعے آزاد اور پرامن ماحول میں اپنی پسند کے راہنما منتخب کریں گے اور شفاف اور پرامن انتخابات کے انعقاد میں امریکہ ان کی مدد کرے گا کیونکہ اصل طاقت جمہوریت میں ہی ہوتی ہے۔

امریکہ پر کرزئی حکومت کے الزامات اور دونوں ممالک کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی سرد مہری کے بارے میں ان کا کہناتھا کہ افغانستان تبدیلی کے عمل سے گذر رہاہے اور ہم سمجھتے کہ آج وہاں کے حالات اس دور کے مقابلے میں جب امریکہ وہاں گیا تھا، بہت بہتر ہیں۔ اور اب وقت آگیا کہ ہم وہاں سے اپنی فوجیں نکال لیں اور افغان عوام کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے ، اپنے لیڈر چننے اور اپنے تیئیں آگے بڑھنے کا موقع دیں۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جمہوریت اپنا اثر دکھانے میں وقت لیتی ہے۔ ایک سیاہ فام صدر چننے میں امریکہ کو بھی دوسو سال لگے ہیں۔

کانگریس مین میکس نیویارک کے ایک ایسے انتخابی ڈسٹرکٹ کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں پاکستانی ، بھارتی اور بنگلہ دیشی باشندوں سمیت بیرونی ممالک سے آنے والے تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنے حلقے کی آبادی کا تنوع انہیں مختلف ثقافتوں، مذاہب اور کمیونیٹیز کے لوگوں سے ملنے، ان کی تہذیب و معاشرت کو سمجھنے اور ان کے مسائل حل میں مدد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

کانگریس مین میکس کانگریس کی خارجہ ا مور کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنے حلقے کی متنوع آبادی کی وجہ سے انہیں دوسرے ممالک کے حقیقی مسائل اور ان کا پس منظر، وہاں کی ثقافت و سیاست کو سمجھنے کا موقع ملا ہے جس سے خارجہ امور کی کمیٹی میں ان کا کام نسبتاً آسان ہوگیا ہے۔

گریگوری میکس ساتویں بار ایک واضح اکثریت کے ساتھ ایوان نمائندگان کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ اپنی مسلسل کامیابیوں کے بارے میں ان کا کہناہے کہ میرے دفتر کا دروازہ لوگوں کے لیے ہروقت کھلا رہتا ہے اور جہاں تک ممکن ہو میں ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اگر میں اپنے دفتر اور اپنے شہر میں موجود نہ بھی ہوں تو بھی اپنے حلقے کے لوگوں کے قریب رہتا ہوں اور فیس بک ، ٹویٹر اور ای میل کے ذریعے ان سے رابطہ رکھتا ہوں ۔ میرے حلقے کے لوگوں کو یہ اعتماد ہے کہ میں ان کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کروں گا۔

میکس کہتے ہیں آج کے دور کوئی ملک تنہا ترقی حاصل نہیں کرسکتا، کیونکہ مختلف علاقوں کی معیشتں ایک دوسرے سے مربوط ہوچکی ہیں اور ایک ملک کی ترقی دوسرے ملک کی ترقی سے مشروط ہوگئی ہے۔

گریگوری میکس امریکہ میں کام کرنے والے کئی ملکوں کے کاکسسز سے منسلک ہیں۔ جن میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے کاکس کے بھی شامل ہیں۔ اس سوال کے جواب میں پاکستان اور بھارت جیسے ممالک کے کاکسز میں، جن کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں، وہ اپنا کردار کس طرح متوازن رکھتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ امریکہ دونوں ممالک کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور تجارت، معیشت اور دیگر کئی شعبوں میں اس کے امریکہ کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ اسی طرح پاکستان خطے کا ایک اہم ملک اور امریکہ کا اتحادی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ امریکہ کی عالمی کوششوں میں بھرپور اور اہم کردار ادا کررہاہے۔ امریکہ کا نمائندہ ہونے کے ناطے میں یہ کوشش کرتا ہوں کہ انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے میں اپنا کردار ادا کروں۔

امریکہ میں اقلیتوں کے مستقبل سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر کانگریس مین کا کہنا تھا کہ یہاں اقلیتوں کو بہت سے حقوق اور مواقع میسّر ہیں۔ لیکن یہ حاصل کرنے کے لیے انہیں طویل جدوجہد کرنا پڑی۔ اقلیتوں کے لیے آج کا امریکہ میرے دادا کےدور کے
امریکہ سے کہیں بہتر ہے۔ لیکن یہاں نسل، رنگ اور کئی دوسری بنیادوں پر اب بھی تعصب دکھائی دیتا ہے۔ گریگوری میکس نے پرعزم لہجے میں کہا ہے آنے والا کل آج سے زیادہ بہتر ہوگا کیونکہ عشروں پہلے حقوق اور انصاف کے حصول کے لیے شروع ہونے والا سفر آج بھی جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG