رسائی کے لنکس

’مسلمانوں کے خلاف غلط تاثر کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے‘


کانگریس کے ارکان، کیتھ ایلسن اور آندرے کارسن

کانگریس کے ارکان، کیتھ ایلسن اور آندرے کارسن

کانگریس مین، آندرے کارسن نے کہا ہے کہ ’یہ واقعہ مسلمانوں کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ بھی دیگر کمیونٹی کی طرح، اپنے متعلق غلط تاثر کا مقابلہ کریں‘

امریکی کانگریس کے دو مسلمان اراکین آندرے کارسن اور کیتھ ایلسن نے ٹیکساس میں مسلم طالب علم کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکہ میں آج مسلمانوں کو اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے جو ماضی میں یہودیوں، سیاہ فام امریکوں اور دیگر کمیونٹی کو تھا‘۔

اُنھوں نے یہ بات واشنگٹن ڈی سی کے ایک نئے تھنک ٹینک ’امریکن مسلم انسٹی ٹیوشن‘ کی بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کے دوران کہی، جسے ’نیشنل پریس کلب‘ میں منعقد کیا گیا۔

بعدازاں، خصوصی بات چیت میں کانگریس مین آندرے کارسن نے کہا ہے کہ ’یہ واقعہ مسلمانوں کو یہ موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ وہ بھی دیگر کمیونٹی کی طرح اپنے متعلق غلط تاثر کا مقابلہ کریں‘۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں یہ دکھانا ہے کہ ’امریکہ ہمارا ملک بھی ہے۔ ہم سائنسدان ہیں۔ ماہر طب ہیں۔ وکیل ہیں اور امریکہ ہمارا ہے‘۔

آندرے کارسن کا کہنا تھا کہ جب تک ہم مسلمانوں سے منسلک منفی تاثرات کو پورے امریکہ سے ختم نہیں کردیتے، ہمیں ایسے امتیازی واقعات کا سامنا رہے گا۔

ایک سوال پر آندرے کارسن نے کہا ہے کہ ’یہ تصور کہ مسلمان دہشت گردی کی نمائندگی کرتا ہے اور سب مسلمان ایک جیسے ہیں غلط ہے۔ آئے دن مسلمانوں کی مدد سے دہشت گردی کی بہت سی کوششوں کو ناکام بنایا جاتا رہا ہے۔ مسلمان امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا حصہ ہیں۔ لیکن یہ حقیقت کبھی سامنے نہیں لائی جاتی‘۔

ایک اور مسلمان کانگریس مین، کیتھ ایلسن نے مسلمان طالب علم کی گرفتاری پر ردعمل میں کہا ہے کہ ’یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ابھی اس معاشرے میں مسلمانوں کو بہت سا کام کرنا باقی ہے۔ اس وقت بھی امریکی معاشرے میں کچھ لوگ ہیں جنھیں ریاست کی حمایت مل جاتی ہے۔ لیکن، اس کے ساتھ ہی وہ لوگ بھی ہیں جو مذہبی ہم آہنگی کی کوششوں میں لگے ہیں اور سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں‘۔

کیتھ ایلسن نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ احمد محمد اپنی گھڑی بنائے۔ وہ جو تخلیقی کام کررہا ہے اسے تمام دنیا کے 14 سالہ بچوں کو کرنا چاہئیے۔ لیکن، افسوس کہ اسے ستائش دینے کی بجائے ایک مجرم کی طرح برتاؤ کیا گیا۔ لیکن، ہم اسے ایک باضلاحیت نوجوان کی نظر سے دیکھتے ہیں‘۔

کیتھ ایلسن نے کہا ہے کہ ’ہم احمد محمد کے ساتھ ہیں۔ متعصب لوگ امریکہ ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں موجود ہیں۔ لیکن، اچھے لوگ بھی ہیں اور جب تک یہ اچھے لوگ غلط رویے کے خلاف کھڑے ہونے کے لئے آمادہ ہیں امید قائم رہے گی‘۔

انھوں نے کہا کہ معاشرتی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے کر امریکی مسلمان اس طرح کے امتیازی برتاؤ کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔

’امریکن مسلم انسٹی ٹیوشن‘ کے اغراض و مقاصد میں مسلمانوں کے خلاف غلط تاثر کا مقابلہ کرنا ’اولین ترجیح‘ کا معاملہ ہے۔

افتتاحی تقریب میں اپنے کلمات میں، انسٹی ٹیوشن کے اگزیکٹو ڈائریکٹر، مائیک غوث نے کہا کہ، ’ادارے کے توسط سے، میڈیا میں بیانات جاری کیے جائیں گے، جس سلسلے میں تمام فریق کو ساتھ لے کر چلا جائے گا۔

امریکہ میں ’اسلاموفوبیا‘ پر جاری گفتگو کے پس منظر میں ’امریکن مسلم انسٹی ٹیوشن‘ جیسے ادارے کا قیام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکہ میں موجود مسلم کمیونٹی اس معاملے کے حل کے لیے کوشاں ہے۔

دونوں اراکین کانگریس سے ہونے والی بات چیت کی تفیصلات دیکھنے کے لئے درج ذیل وڈیو کلگ کیجئے:

XS
SM
MD
LG