رسائی کے لنکس

داعش پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے: امریکی رکنِ کانگریس


ٹیکساس سے ری پبلکن پارٹی کے منتخب رکن کانگریس ٹیڈ پو نے کہا ہے کہ داعش کسی ملک کے لیے نہیں بلکہ پو ری دنیا کے لیے خطرہ ہے لہذا اسے شکست دینے کے لے عالمی کوششوں کی ضرورت ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی ذیلی کمیٹی برائے خارجہ امور، دہشت گردی، ایٹمی عدم پھیلاؤ اور تجارت کے چیئرمین اور ٹیکساس سے ری پبلکن پارٹی کے منتخب رکن ٹیڈ پو نے کہا ہے کہ داعش کسی ملک کے لیے نہیں بلکہ پو ری دنیا کے لیے خطرہ ہے لہذا اسے شکست دینے کے لے عالمی کوششوں کی ضرورت ہے۔

انھوں نے ان خیالات کا اظہار داعش پر کانگریس کی سماعت کے بعد وائس آف امریکہ کی دیوا سروس سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش نے سرحدوں کو پامال کردیا ہے اور پوری دنیا کے لئے خطرہ بن کر سامنے آئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ تمام امن پسند لوگ بلا امتیاز مذہب شدت پسند کا نشانہ ہیں جو اپنی دہشت گردی کو مشرق وسطی سے مغرب تک توسیع دینا چاہتی ہے۔ ان کے بقول داعش پوری دنیا کی دشمن ہے جو جہاں بھی حملہ کرے امریکہ سمیت پوری دنیا کو اس پر تشویش ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پیرس پر حالیہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ دہشت گرد گروہ دنیا بھر میں پھیلنا چاہتا ہے۔ اس حملے کے بعد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ مغرب کے دیگر شہروں پر بھی حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

معروف تجزیہ کار اور 'آئی ایس آئی ایس: ان سائیڈ آرمی آف ٹیرر' نامی کتاب کے مصنف مائیکل وائیس نے وائس آف امریکہ دیوا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم مکمل طور پر عالمگیر خطرہ بن چکی ہے اور مغربی شہروں سمیت ہر وقت اور ہر جگہ حملہ کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔

وائیس کے مطابق داعش لبرل جمہوریت کی کمزوری کا فائدہ اٹھارہی ہے، وہ یورپ میں بھی لوگوں سے بنیاد پرستی کی اپیل کرتے ہیں اس پس منظر کے ساتھ کہ وہ تعلیم یافتہ ہیں اور لندن اور برسلز یا پھر پیرس میں پرورش پائی ہے۔ داعش کا پروپیگنڈا مواد اور ان کے ترانے یورپ میں فرانسسی زبان میں بھی دستیاب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلح گروہ نے عراق اور شام کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی شاخیں قائم کردی ہیں۔ دنیا کے بہت سے علاقوں میں انتہا پسند گروہ داعش کے نیٹ ورک کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں اور جنوبی اور وسطی ایشیا کے کئی گروپ تو پہلے ہی ان کے اتحادی بن چکے ہیں۔

مائیکل وائیس سمجھتے ہیں کہ داعش مغربی شہروں پر حملہ کرکے دنیا کو تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ "وہ حقیقت میں تہذیبوں کے درمیان تصادم کرانا چاہتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کےخیال میں صرف دو کیمپ باقی رہ جائیں گے، ایک ایمان والوں کا کیمپ اور دوسرا کافروں کا کیمپ۔"

وائیس نے پیرس حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو اس بات کا یقین تھا کہ اس حملے کے نتیجے میں مغرب میں مسلم کمیونٹی کے خلاف ردعمل آئے گا۔

XS
SM
MD
LG