رسائی کے لنکس

وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کو علاقائی امن و استحکام کے حصول کے لیے ایک ایسی حکمتِ عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے جو دونوں کو قابلِ قبول ہو۔

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی کانگریس کے وفد سے جمعرات کو ملاقات میں اُنھوں نے کہا کہ فوجی آپریشن مسائل کا مستقل حل نہیں ہوتے۔

’’اس لیے پاکستان سیاسی عمل کی حمایت کرتا ہے جو آگے چل کر افغانستان میں (شورش کے) سیاسی حل کی بنیاد بنے گا۔‘‘

اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علاقائی سلامتی بالخصوص افغانستان میں امن و امان کی صورت حال پر بات چیت کی گئی۔

وزیرِ اعظم گیلانی نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ ’’بہترین تعلقات‘‘ کا خواہاں لیکن ان کی بنیاد باہمی احترام اور مشترکہ مفاد پر ہونی چاہیئے۔

ملاقات میں بلوچستان کے بارے میں حال ہی امریکی ایوان نمائندگان میں متعارف کرائے گئے بل پر پاکستان کی تشویش سے بھی امریکی وفد کو آگاہ کیا گیا۔

بیان کے مطابق اراکین کانگریس نے کہا کہ ری پبلیکن اور ڈیموکریٹ جماعتوں کے ساتھ ساتھ خود امریکی حکومت اس بل کے خلاف ہے۔ ’’امریکہ پاکستان کی جغرافیائی خود مختاری کا احترام کرتا ہے۔‘‘

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ترجمان مارک اسڑو نے وائس آف امریکہ سے گفتگو سے کرتے ہوئے بتایا کہ کانگریس کے اراکین کا دورہ پہلے سے طے شدہ تھا اور اس کا پاک امریکہ تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ یہ دورہِ امریکی قانون سازوں کے دیگر ممالک میں اپنے ہم منصبوں سے رابطوں کی کڑی ہے۔ ’’امریکی کانگریس کا وفد ہر سال پاکستان کا دورہ کرتا ہے جس کا بنیادی مقصد پارلیمانی اقدار اور جمہوری روایات کا فروغ ہے۔‘‘

امریکی قانون سازوں کے وفد نے ڈیوڈ ڈرائر کی سربراہی میں جمعرات کو وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے علاوہ پاکستانی سینیٹ کے چیئرمین فاروق ایچ نائیک اور اراکین پارلیمان سمیت دیگر اعلیٰ عہدے داروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی خارجہ اُمور کمیٹی کے چیئرمین سلیم سیف اللہ خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ امریکی کانگریس کے وفد کے دورے سے دوطرفہ تعلقات میں پائے جانے والے تناؤ میں کمی آئے گی۔

نومبر 2011ء میں مہمند ایجنسی میں دو سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے فضائی حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے پاک امریکہ سیاسی تعلقات معطل ہیں اور اسلام آباد واشنگٹن سے مستقبل میں تعاون اور روابط کا از سر نو جائزہ لے رہا ہے۔

اس سلسلے میں مرتب کی گئی سفارشات پر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں بحث ہونا باقی ہے، اور دونوں ملکوں نے عمل کی تکمیل کے بعد دو طرفہ تعلقات میں بہرتی آنے کا عندیہ دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG