رسائی کے لنکس

امریکہ کی 31 ریاستیں موت کی سزا کی اجازت دیتی ہیں، جب کہ 19 اِس کی مخالف ہیں۔ امریکی عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا ہے کہ سزائے موت غیر قانونی ہے، جب کہ اس سال 19 مجرموں کو سزائے موت دی گئی ہے

کنیٹی کٹ کی اعلیٰ ترین عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ ریاست میں موت کی سزا دینا غیرآئینی اقدام ہے، کیونکہ یہ ’ظالمانہ اور غیرمعمولی‘ سزا کی مترادف ہے۔

اُدھر کچھ ہی گھنٹے قبل، ایک اور ریاست، ٹیکساس میں اِس سال کی دسویں سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔

سزائے موت کے حوالے سے اس مختلف سوچ سے امریکہ میں سخت سزا دیے جانے سے متعلق متضاد انداز فکر کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے، جہاں 31 ریاستیں اس کی اجازت دیتی ہیں، جب کہ 19 اِس کی مخالف ہیں۔ امریکی عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا ہے کہ سزائے موت غیر قانونی ہے، جب کہ اس سال 19 مجرموں کو سزائے موت دی گئی ہے۔

ملک کی شمال مشرقی ریاست کنیٹی کٹ کے قانون سازوں نے تین برس قبل، ایک قانون کی منظوری دی ہے جس میں آئندہ سرزد ہونے والے جرائم پر سزائے موت دینے پر ممانعت عائد کی گئی ہے۔ تاہم، جمعرات کو دیے جانے والے اس فیصلے کا مقصد یہ ہے جب یہ فیصلہ سنایا گیا، 11 افراد کو ٹکٹکی پر چڑھایا جانا تھا، جنھیں اب یہ سزا نہیں ہوسکتی، اور ممکنہ طور پر اُنھیں طویل مدت کی سزا ہوگی، شاید عمر قید کی صورت میں۔

ملک کی جنوب مغربی ریاست، ٹیکساس جہاں امریکہ کی کسی دوسری ریاست کے مقابلے میں سب سے زیادہ موت کی سزائیں دی جاتی ہیں، وہاں ایک 27 برس کے مجرم کو زہریلا انجیکشن دے کر موت کی نیند سلا دیا گیا۔ اُن پر جرم ثابت ہوا تھا کہ اُنھوں نے ایک پولیس اہل کار کے اوپر گاڑی گزار دی تھی، جس میں وہ ہلاک ہوئے۔ سنہ 1967 جب ملک کی سپریم کورٹ نے موت کی سزا بحال کی تھی، ٹیکساس میں موت کی سزا دیا جانے والا یہ 528 واں مجرم تھا، جن کی موت کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔



XS
SM
MD
LG