رسائی کے لنکس

ہکلانے پر قابو پانا ممکن ہے


ہکلانے پر قابو پانا ممکن ہے

ہکلانے پر قابو پانا ممکن ہے

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ایسے افراد کی تعداد سات کروڑ سے ذرا ہی کم ہے جو اپنی روزمرہ بول چال میں ہکلاہٹ کا سامنا کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہناہے کہ ہکلاہٹ کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے اکثرنفسیاتی ہوتی ہیں اور تھوڑی سی کوشش سے انسان اپنی بول چال کے اس مسئلے پر قابو پاسکتا ہے۔

ہکلاہٹ کے موضوع پر ہالی وڈ کی ایک فلم کنگ سپیچ نے چار اکیڈمی ایوارڈ جیتے تھے۔ یہ فلم برطانیہ کے ایک سابق بادشاہ جارج ہشتم کے گرد گھومتی ہے ۔ فلم میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے کیا اقدامات کیے تھے۔

واشنگٹن میں حال ہی میں منقعد ہونے والی ایک کانفرنس میں شامل سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ ہکلاہٹ کا تعلق بول چال سے منسلک خلیوں کی کمزوری سے بھی ہوسکتا ہے۔

تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ ہکلانے والوں میں بول چال کا عمل بعض اوقات دماغ کے ایک مختلف حصے میں واقع ہوتا ہے۔ ہکلانے والے 60 فی صد افراد کے خاندانوں میں بھی یہ مسئلہ کسی نہ کسی انداز میں موجود ہوتاہے۔

ہکلاہٹ کی ایک اور وجہ بچوں کی نشو نما میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔ اور یہ مسئلہ لڑکیوں کی نسبت لڑکوں میں چار گنا زیادہ ہوتا ہے۔ نوجوانوں یا بڑی عمر کے افراد میں عموما اس مسئلے کی وجہ فالج کے دورے یا دماغ کی چوٹ ہوتا ہے۔

امریکہ سمیت دنیا کے اکثر ممالک میں ہکلاہٹ پر قابو پانے کے ادارے موجود ہیں اور ان میں زیادہ تر نفسیاتی طریقہ علاج اپنا یا جاتا ہے۔ایک ایسا ہی ادارہ امریکی ریاست میری لینڈ میں بھی کام کررہاہے۔اس کلینک میں طالب علم ایک دوسرے کو اپنے تجربات سناتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ ان کی ہچکچاہٹ اور خوف دور ہونے لگتاہے۔

XS
SM
MD
LG