رسائی کے لنکس

اس بل کے مطابق مختلف سائبر جرائم کے زمرے میں آنے والے کسی بھی جرم کے تحت 14 سال تک قید کی سزائیں اور پانچ کروڑ روپے تک کے جرمانے عائد کیے جا سکیں گے۔

پاکستان کے ایوان زیریں "قومی اسمبلی" نے جمعرات کو ترمیم شدہ سائبر کرائم بل کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ یہ مسودہ قانون ایوان بالا سے پہلے ہی منظور ہو چکا ہے لہذا اب یہ صدر مملکت ممنون حسین کے پاس بھیجا جائے گا جن کے دستخط سے یہ باقاعدہ قانون کی صورت اختیار کر لے گا۔

کمپیوٹر یا انٹرنیٹ کے ذریعے کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی روک تھام کے لیے بنائے گئے اس مجوزہ قانون کی حزب مخالف کی بعض جماعتیں، انٹرنیٹ صارفین کے حقوق اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مخالفت کرتی آرہی ہیں۔

حکومت نے تمام تر مخالفت کے باوجود رواں سال اپریل میں سائبر کرائم بل 2015ء قومی اسمبلی سے منظور کروا لیا تھا اور سینیٹ میں بھیجے جانے پر حزب مخالف اور دیگر فریقین کی مشاورت سے تجویز کردہ متعدد ترامیم کے ساتھ اسے گزشتہ ماہ منظور کرتے ہوئے دوبارہ ایوان زیریں میں بھیجا گیا تھا۔

اس بل کے مطابق مختلف سائبر جرائم کے زمرے میں آنے والے کسی بھی جرم کے تحت 14 سال تک قید کی سزائیں اور پانچ کروڑ روپے تک کے جرمانے عائد کیے جا سکیں گے۔

بل کے مطابق سائبر جرائم کی تحقیقات کے لیے ہائیکورٹ کی مشاورت سے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی جن کے فیصلوں کے خلاف 30 دن میں اعلیٰ عدلیہ میں اپیل کی جا سکے گی۔

انٹرنیٹ کے ذریعے منافرت پھیلانا، بچوں کی غیر اخلاقی تصاویر جاری کرنا، دہشت گردوں کی معاونت، دھوکہ دہی اور انٹرنیٹ ڈیٹا کے غلط استعمال پر قید کی سزائیں اور جرمانے عائد کیے جا سکیں گے۔

بل کی منظوری سے قبل بھی قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی سب سے بڑی دو جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اس کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔

پیپلز پارٹی کی رکن پارلیمنٹ نفیسہ شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ان کی جماعت نے بل میں تبدیلی کے لیے سفارشات دی تھیں لیکن اس کے مضمرات کے پیش نظر وہ اب اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت جلد بازی میں اسے منظور کر رہی ہے جو کہ مناسب نہیں ہے۔

"پاکستان میں ایک متحرک سماجی میڈیا کلچر پروان چڑھا ہے، ہم اس بل کی مذمت کرتے ہیں اسے بلا سوچے سمجھے جلد بازی میں حکومت منظور کروا رہی ہے اس کے برے نتائج نکلیں گے۔"

انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم "بائٹس فار آل" کے عہدیدار شہزاد احمد کہتے ہیں کہ بل سے متعلق ان کے تحفظات اپنی جگہ موجود ہیں اور یہ بل بنیادی شخصی آزادی پر قدغن کے مترادف ہوگا۔

"سیاسی اور مذہبی آزادی متاثر ہوگی۔۔۔اس میں کئی ایسی شقیں ہیں جن کو استعمال کرتے ہوئے حکام ہماری بنیادی شخصی آزادی پر قدغن لگا سکتے ہیں۔"

تاہم حکومت اس تنقید کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہہ چکی ہے کہ طویل مشاورت کے بعد ہی اسے حتمی شکل دی گئی اور اس کا مقصد دور حاضر کے چینلجوں سے نمٹنے میں مدد لینا ہے۔

حکومت کے بقول اس بل پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنائے جائے گی جو سال میں دو مرتبہ اس کی کارکردگی سے ایوان کو آگاہ کرے گی۔

XS
SM
MD
LG