رسائی کے لنکس

یہ سمجھ لینا چاہئے کہ کھانا پکانے میں غلطیاں تو ہوتی ہی ہیں۔ لیکن، ان سے دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہئے؛ بلکہ ان سے سیکھنا چاہئے۔ کھانا پکانے کی ترکیبوں والی کتابیں خریدنا چھوڑ کر کھانا پکانا شروع کر دیں

کہتے ہیں کہ کھانا پکانا ایک فن ہے۔ جس طرح مصور کے پاس محدود رنگ ہوتے ہیں اور موسیقار کے پاس محدود سر۔ اسی طرح، باورچی کے پاس بھی ذائقے کا محدود خزانہ ہوتا ہے، جسے وہ وسعت دینے کے جتن کرتا ہے۔

لیکن، اصل کمال ان رنگوں، سروں یا ذائقوں کے میزان کا ہے، جسے ایک ماہر کی حس، ڈھنگ اور تجربہ نکھار کا روپ دیتا ہے۔


کچھ لوگ سالہا سال کھانا پکاتے ہیں، لیکن اُن کی کاریگری ادھوری رہتی ہے۔

ناتجربے کار باورچی اس شغل سے بیزار آجاتے ہیں۔ وہ اس کام کو بس ایک مزدوری سمجھنے لگتے ہیں۔

سیکھنے والے کھانا پکانا شروع کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن، سوچتے ہیں کہ کیسے اور کہاں سے سیکھیں؛ اور یوں کھانا پکانا شروع کرنے سے پہلے ہی ہمت ہارنے لگتے ہیں۔

جریدہ 'ریڈرز ڈائجسٹ' کہتا ہے کہ لوگ گھر بیٹھے کھانا پکا کر سب سے آسان اور صحت مند تفریح حاصل کر سکتے ہیں۔ اور اس کے لئے انھیں کھانا پکانا سکھانے والے ٹی وی شوز اور کتابوں کی بھی ضرورت نہیں۔

جریدے کے مطابق، کھانا پکانے اور اس سے لطف اندوز ہونے کے لئے خود اعتمادی کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے لئے انسان کو طرح طرح کے کھانے اور ذائقے چکھنے چاہئیں۔

یہ سمجھ لینا چاہئے کہ کھانا پکانے میں غلطیاں تو ہوتی ہی ہیں لیکن ان سے دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہئے۔ بلکہ، ان سے سیکھنا چاہئے۔ کھانا پکانے کی ترکیبوں والی کتابیں خریدنا چھوڑ کر کھانا پکانا شروع کر دینا چاہئے اور پہلے کھانا پکانے کی پانچ نئی ترکیبیں سیکھنی اور بار بار پکا کر ان میں مہارت حاصل کرنی چاہئے۔


کئی طالب علم یا نوکری پیشہ لوگ جو دوسرے ممالک میں اکیلے رہتے ہیں اور اکیلے اپنے لئے ہی کھانا پکاتے ہیں، ان کی مشکل آسان کرتے ہوئے جریدہ لکھتا ہے کہ ایسے لوگوں کو صرف اتنی ہی چیز خریدنی چاہئے جتنی کہ وہ کھا سکیں، تاکہ کھانا ضائع نہ ہو۔ ایسے لوگوں کو انڈوں کا سہارا لینا چاہئے، جو پلک جھپکتے تیار ہو جاتے ہیں۔ وہ اس میں کوئی سبزی یا گذشتہ روز کا بچا ہوا کھانا ملا لیں یا انڈے ابال کر اسے سلاد میں ملا لیں اور جو کھانا بچ جائے اسے اگلے دن کے لئے بچا لیں۔


جن لوگوں کو کھانا پکانا نہیں آتا ان کے لئے 'ریڈرز ڈائجسٹ' کے مضمون 'گٹ ککنگ' میں کیتھرن ایلیٹ لکھتی ہیں کہ کوئی بھی پییدائشی طور پر کھانا پکانے میں مہارت نہیں رکھتا۔ بلکہ، یہ ایک ہنر ہے جسے وقت کے ساتھ سیکھا جا سکتا ہے۔

'اگر کسی نے کبھی کھانا پکایا ہی نہ ہو، تو اسے سب سے پہلے ہر روز اپنا ناشتہ تیار کرنا چاہئے۔ چاہے وہ صرف پکی پکائی چیزوں کو برتن میں نکال کر دسترخوان پر سجانا ہی کیوں نہ ہو، انھیں سادہ سلاد بنا کر اپنا ہاتھ صاف کرنا چاہئے اور سب سے پہلے کسی ایک کھانے کی ترکیب میں مہارت حاصل کرنی چاہئے'۔


جو لوگ سالوں سے کھانا پکا رہے ہیں اور اب اس کام سے اکتا ہٹ محسوس کرتے ہیں، انھیں ایک تو اس ذمہ داری کا کچھ حصہ دوسروں کے سر بھی ڈالنا چاہئے تاکہ وہ خود کچھ آرام کرکے دوبارہ کھانا پکانے میں دلچسپی لے سکیں اور روز وہی کی وہی چیزیں پکانے کے بجائے نئی جیزیں پکانے کی کوشش کرنی چاہئے۔


پاکستان اور بیرون ملک اپنے ٹی وی شوز کی وجہ سے مشہور شیف ذاکر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کھانا پکانا ایک فن ہے اور اس میں توجہ، محبت اور اپنائیت پیدا کر لی جائے تو خود بخود اچھا کھانا بننا شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن، اگر کھانا بنانے کو ایک بوجھ سمجھ لیا جائے تو پھر گھریلو عورتیں بھی صحیح کھانا نہیں بنا پاتیں اور بوریت کا شکار ہو جاتی ہیں۔


شیف ذاکر کا کہنا تھا کہ کھانا پکانے میں اہتمام کیا جائے اور اسے خوبصورت بنایا جائے تو پھر دل کرتا ہے کچھ مزید اچھا پکایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انسان کھانا پکانے میں صحت کا پہلو سامنے رکھے تو اسے پکانے میں محبت اور اپنائیت خود ہی شامل ہو جاتی اور اچھے سے بہتر اور بہتر سے بہترین کھانیں بننا شروع ہو جاتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG