رسائی کے لنکس

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کھلی آگ یا ایندھن کے چولہوں سے گھروں میں جمع ہونے والا دھواں ترقی پذیر ممالک کی عوام کی صحت کو لاحق پانچواں بڑا خطرہ ہے۔ چولہے جلانے کے لیے لکڑی حاصل کرنے کی غرض سے درختوں اور جنگلات کی تیزی سے کٹائی نے ماہرین کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔

انہی مسائل کے حل کے لیے حال ہی میں افریقی ملک کینیا میں عالمی امدادی تنظیموں کا ایک اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں دیہی علاقوں کے رہائشیوں کو گیس یا دوسرے ماحول دوست ایندھن سے جلنے والے چولہے استعمال کرنے کی ترغیب دینے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔

امدادی تنظیموں نےکئی افریقی ممالک کے دیہی علاقوں میں ایسے ہی ماحول دوست چولہے متعارف کرائے ہیں ۔ کینیا کے دارالحکومت نیروبی کی ایک کچی آبادی میں رہنے والی روزلین امونڈی بھی ایک ایسا ہی چولہا استعمال کر رہی ہیں جو 'بائیو گیس' سے چلتا ہے۔

امونڈی کا کہنا ہے کہ اس چولہے کے استعمال سے جہاں انہیں دھویں سےچھٹکارا ملا ہے وہیں ایندھن کا خرچ بھی کم ہوگیا ہے۔

ان ماحول دوست چولہوں کے استعمال کا ایک بڑا فائدہ پیسے کی بچت ہے جو ایندھن پر ہونے والے اخراجات میں کمی کی صورت میں ہوتی ہے۔ یہ چولہے یا تو قدرتی گیس یا پھر شمسی توانائی یا بجلی سے چلتے ہیں اور ان میں سے کئی ایسے ہیں جن میں تارکول بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ان چولہوں میں لکڑی بھی استعمال کی جاسکتی ہے جس کے دھویں کو گھر سے باہر نکالنے کے لیے اس کے ساتھ چمنی نصب ہوتی ہے۔ اس چمنی کی بدولت ان چولہوں کا فائدہ مزید بڑھ گیا ہے کیوں کہ ماضی کے کھلے چولہوں کی طرح ان کی وجہ سے گھر کے اندر کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور دیگر زہریلی گیسیں جمع نہیں ہونے پاتیں۔

عالمی ادارہ صحت کے محتاط اندازوں کے مطابق ہر برس لگ بھگ 20 لاکھ افراد گھروں کے اندر پیدا ہونے والی فضائی آلودگی کے سبب ہلاک ہوتے ہیں۔ ان میں سے پانچ لاکھ افراد صرف مشرقی افریقی ممالک میں دھویں کے سبب جنم لینے والی بیماریوں کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

عالمی امدادی ادارے دیہی علاقوں میں ان ماحول اور صحت دوست چولہوں کو فروغ دینے کے لیے انہیں کم قیمت بنانے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو انہیں استعمال کرنے کی ترغیب دینے میں مصروف ہیں۔

صرف کینیا میں 2006ء سے 2011ء کے درمیانی پانچ برسوں میں 'جی آئی زی' نامی ایک ادارے نے 13 لاکھ گھرانوں کو کم نرخوں پر یہ چولہے فراہم کیے ہیں جس سے یہ امید ہوچلی ہے کہ اس افریقی ملک میں جنگلات کی تیزی سے کٹائی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

XS
SM
MD
LG