رسائی کے لنکس

باورچیوں اور خانساماوٴں کے دن پھر گئے


باورچیوں اور خانساماوٴں کے دن پھر گئے

باورچیوں اور خانساماوٴں کے دن پھر گئے

میڈیا نے پاکستان میں دیکھتے ہی دیکھتے وہ انقلاب برپا کیا ہے کہ جس کا سرسری تذکرہ بھی طویل وقت مانگتا ہے۔ غور کریں تو محسوس ہوگا کہ یہ وہ جادو ہے جس نے پلک جھپکتے بہت سارے مسئلے حل کردیئے ہیں۔ مثلاً صبح ہی صبح ہر گھر میں پوچھا جانے والا یہ سوال کہ " آج کیا پکے گا؟" بظاہر بہت چھوٹا سا اور آسان لگتا ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ چھوٹے سے اس سوال کا جواب بسااوقات گھنٹوں سوچا جاتا تھا مگر بھلا ہو کوکنگ چینلز کا اب یہ سوال ایک دو روز پہلے ہی حل کرلیا جاتا ہے۔ جس دن جس کھانے کی ترکیب آسان، اچھی اور مناسب لگی اسے نوٹ کرلیا۔

پھر چینل تو چلے ہی چلے کھانا پکانے والے رسالے اور کتابیں بھی نکل آئیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سارے رسالے اور ساری کتابیں بڑی تعداد میں بیچی اور خریدی جاتی ہیں۔ ماہنامہ دسترخوان، کچن، مصالحہ۔۔۔اس کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں۔ چینلز کی موجودگی میں رسائل و جرائد کی قدر کم ہوجانی چاہئے تھی مگر تعجب ہے کہ انھی چینلز سے ان رسالوں کے اشتہارات دکھائے جاتے ہیں تاکہ دیکھنے والے ان سے محروم نہ رہ جائیں ۔۔پھر چینلز سے جو ریسپی (کھانا پکانے کی ترکیب) مس ہوگئی وہ ان رسالوں میں مل جاتی ہے۔

"مصالحہ "، "اے آر وائی ذوق"اور " ذائقہ"۔۔ کہنے کے لئے تو کوکنگ چینلز ہیں مگر ان کا بجٹ لاکھوں روپے ماہانہ کا ہے۔ اب بھٹیارہ ، باورچی اور خانساماوٴں کے دن پھر گئے ہیں اورانہیں شیف کہہ کر پکارا جاتا ہے ۔ شیف فرانسیسی لفظ ہے جس کے معنی منیجر پروڈکشن کے ہیں۔ گویا ایسا منیجر جو ہر بار نئے سے نئے کھانے پکاسکے۔

شیف ذاکر، محبوب، طاہرہ متین، سعادت، گلزار، راحت ، مائدہ ، عارف شہاب، کوکب خواجہ، زبیدہ طارق، ردا آفتاب اور شیریں انورپیشے کے اعتبار سے شیف ہیں مگر جناب اب یہ لوگ صرف شیفس ہی نہیں بلکہ کوکنگ چینلز کے ہیروز ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے کامیاب ترین آئیڈیلز بھی ہیں۔ زیادہ تر باقاعدہ ریسٹورنٹس کے مالک ہیں۔ کسی نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ہوٹل منیجمنٹ سے فوڈ اینڈ بیوریج میں ڈپلومہ لیا ہوا ہے تو کئی ملکی سطح کی کیٹرنگ کمپنی، غیر ملکی فرنچائز اور فائیو اسٹار ہوٹلز میں بڑی بڑی تنخواہوں پر ملازم ہیں۔ اکثر نے بیرون ملک سے بھی فنی تربیت لی ہوئی ہے تو بعض نے بیرون ملک رہ کر کام کا تجربہ حاصل کیا ہوا ہے اسی سبب وہ ٹی وی پر کام کرنے کے منہ مانگے پیسے لیتے ہیں۔

ٹی وی پر جن کچن یا باورچی خانوں میں انہیں کام کرتا دکھایا جاتا ہے وہ اس قدر خوب صورت ہوتے ہیں کہ اکثر عورتیں اپنے شوہروں سے ویسے ہی کچن بنوانے کی فرمائش کرتی ہیں۔ پھر جدید ساز و سامان، ووڈن ڈیکوریشن، نفیس ڈیزائنوں والے برتن ، کٹلری ، واٹر سیٹ، ڈنر سیٹ ، پلیٹس، چولھے اور مہنگے ترین فریج دیکھ کر اکثر خواتین اپنے شوہروں اور گھروالوں سے ایسے ہی سجے سجائے کچن کی فرمائش کربیٹھتی ہیں۔

ان کوکنگ چینلز کی بدولت ان چیزوں کی مانگ میں یکدم اضافہ ہوگیا ہے جنہیں پہلے کوئی جانتا بھی نہیں تھا یا جانتا تھا تو انہیں ضروری خیال نہیں کیا جاتا تھا لیکن اب جب تک کچن میں ٹماٹرکی پیوری، ایچ بی ساس، ویجسٹر ساس، چلی ساس، اوسٹرساس، مسٹرڈ پیسٹ ، کوکا پاوٴڈر، مسٹرڈ پاوٴڈر، چکن کیوبس، جنجر پاوٴڈر، گارلک ساس، پیپریکا پاوٴڈر، چائنیز سالٹ یا اجینو موٹو، براوٴن شوگر، فش ساس، بادام، پستے، کریم، اچار مصالحہ، زعفران ، تلسی ، اناردانہ، کھٹل، گڑ ، سونٹھ، رائی ، جائفل جاوتری، بادیان کا پھول وغیرہ وغیرہ نہ ہو کچن کو مکمل ہی نہیں سمجھا جاتا۔

مصالحوں کی بدولت ہی معمولی کھانوں کی بھی اہمیت بڑھ گئی ہے مثلاً اب دال بھی 'شاہی دال 'ہوگئی ہے۔ معمولی سا پالک ،پنیر کے ساتھ ملکر وی آئی پی ڈش بن گیا ہے۔

پاکستان میں 1992ء تک لوگوں کو پتہ بھی نہیں تھا کہ پاستہ ، پیزا ، نوڈلز،م یکرونی، لزانیہ ، اسپگٹیز، ایلبو میکرونی کیا ہوتی ہے اور تمام اٹالین کھانے ان کے بغیر کیوں ادھورے سمجھے جاتے ہیں لیکن بدلتی ہوئی ہواوٴں کے عوض آج ہر گھر میں یہ چیزیں فروانی سے استعمال ہورہی ہیں ۔ آج اٹالین، تھائی اور چائنیز کھانے کھائے جارہے ہیں بلکہ جگہ جگہ فرنچائز کھل گئے ہیں اور ان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہورہی ہے۔ جدھر دیکھو ایک انقلاب سا محسوس ہوتا ہے۔ آج وہ خواتین بھی کوکنگ کررہی ہیں جو کھانا پکانے کو بوجھ سمجھتی تھیں۔

آج کھیرا اور ہری مرچ کاٹنے کے اسٹال بدل گئے۔ کٹنگ بورڈ آگیا اور سل بٹہ جانے کہاں چھپ گیا ہے ۔آج تو الیکٹرک بیٹرکا استعمال عام ہے۔ انڈا پھینٹنے سے لیکر دیگر چیزیں پھینٹنے تک جدید آلات استعمال ہورہے ہیں۔

آج کل کھانو ں کی سجاوٹ پربھی حد درجہ دھیان دیا جانے لگا ہے۔ ہر ی مرچ، ہرا دھنیہ، پودینہ، پیاز، بھنی ہوئی پیاز، ٹماٹر، پستہ ، بادام، کاجو، چاندی کے ورق، کشمش، مایونیز، کیچ اپ،الائچی، چاکلیٹ ۔۔۔غرض کے کونسی چیز ہے جو سجاوٹ کے لئے استعمال نہیں ہورہی۔

پہلے کھانوں کے نام بھی لوگوں کی طرح ہی سیدھے سادھے ہواکرتے تھے مگر اب تو کھانوں کے نام بھی نہایت دلچسپی کا باعث ہیں ۔ بعض نام تو بے جوڑ معلوم ہوتے ہیں مگر کیا کیا جائے یہی نام ان کی پہچان بنتے جارہے ہیں مثلاً : لگن کی مچھلی، مچھلی کا کیک، انناس کا پلاوٴ، آڑو اور مرچوں والا سالن، دم دار قیمہ، ڈھابے کی مرچوں والی مرغی، کنا ،گوشت، کاجو والی چائنیز مرغی، چیلے، مرچ اور تلسی والا گوشت اور بھٹے کا سالن۔۔۔

XS
SM
MD
LG