رسائی کے لنکس

’ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل‘ کے مطابق، 11 افریقی ممالک کو جائزے میں شامل کیا گیا، جِن کے نصف سے زائد نےگذشتہ ایک برس کےدوران رشوت دینے کا انکشاف کیا

’ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل‘ کی ایک نئی رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ ماسوائے روانڈا کے، افریقہ بھر کے سرکاری اہل کاروں میں بدعنوانی ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔

برلن میں قائم ’ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل‘ نے دنیا کے 107ممالک کے لوگوں میں بدعنوانی کے بارے میں ایک جائزہ لیا، جس میں افریقہ کے 24ممالک بھی شامل ہیں۔

گیارہ افریقی ممالک کو اس جائزے میں شامل کیا گیا، جن میں سے نصف سے زیادہ لوگوں نے گذشتہ ایک سال کے دوران رشوت دینے کا انکشاف کیا۔

لائبیریا اور سیئرا لیون میں 75فی صد سے زائد لوگوں نے رشوت دینے کا اعتراف کیا۔

جب اُن سے یہ پوچھا گیا آیا وہ کن ادارے کو سب سے زیادہ بدعنوان سمجھتے ہیں، اُنھوں نے پولیس، عدالتوں اور سیاسی جماعتوں کا نام لیا۔

متعدد ممالک، جن میں نائجیریا، کینیا اور زمبابوے شامل ہیں، 80فی صد سے زائد لوگوں نے کہا کہ پولیس رشوت میں زیادہ ملوث ہے۔

اِس ضمن میں روانڈا ایک ایسا ملک ہے جسے اِس رجحان سے استثنیٰ حاصل ہے۔

تحقیق کاروں کے مطابق، جائزے میں شامل کیے گئے روانڈا کے باشندوں میں سے 56فی صد نے بتایا کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران بدعنوانی میں کافی حد تک کمی آئی ہے، اور 15فی صد سے بھی کم لوگوں نے رشوت ستانی کی شکایت کی۔ روانڈا کے متعدد ادارے، جن میں پارلیمان، فوج اور سیاسی پارٹیاں شامل ہیں، اُنھیں بدعنوانی سے تقریباً پاک قرار دیا گیا۔
XS
SM
MD
LG